خطبات محمود (جلد 37) — Page 47
$1956 47 خطبات محمود جلد نمبر 37 دسیوں گنا زیادہ ہوتی ہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ عیسائیوں کو پادری مل جاتے ہیں اور ہمیں نہیں ملتے۔وہ اپنے مذہب کی خاطر اپنی نوکریاں ترک کر دیتے اور دین کی اشاعت میں لگ جاتے ہیں اور اُنیس سو سال کے لمبے عرصہ میں انہیں ہر زمانہ میں ایسے لوگ ملتے چلے آئے ہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ ہمیں مشکلات پیش آ رہی ہیں؟ اس پر اُن طلباء میں سے ایک نے کہا کہ شاہدین کے گزارے بڑھا دیئے جائیں تو جماعت کے نوجوان وقف کی طرف آنے لگ جائیں گے حالانکہ خطبہ میں میں نے یہی کہا تھا کہ باوجود اس کے کہ اسلام کی تعلیم نہایت اعلیٰ ہے اور اس میں روحانیت بھی پائی جاتی ہے یہاں گزارہ کا سوال کیوں باقی رہتا ہے اور عیسائیوں میں کیوں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا ؟ یا تو یہ ثابت کیا جائے کہ عیسائیوں کو پادری اس لیے مل جاتے ہیں کہ اُن کے ہاں پادری کو دنیوی عہدیداروں سے زیادہ گزارہ ملتا ہے اور اگر یہ ثابت نہ کیا جا سکے تو پھر اس اصول کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔میں نے بتایا کہ جن کالجوں میں پادری پڑھتے ہیں انہی کالجوں میں دنیوی عہد یدار پڑھتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص کسی دنیوی عہدہ پر فائز ہو جاتا ہے مثلاً وہ ڈی سی بن جاتا ہے تو اسے دو تین ہزار روپیہ ماہوار مل جاتا ہے۔بعد میں گورنر بن جائے تو اُس کی تنخواہ مثلاً آٹھ ، دس ہزار روپیہ ماہوار ہو جاتی ہے لیکن پادریوں کو اتنا گزارہ نہیں ملتا۔حالانکہ بعض دفعہ پادری ان عہد یداروں سے تعلیم میں زیادہ ہوتے ہیں۔پھر ہمارے ایڈمنسٹریٹو عُہد یداروں اور مبلغین کی تنخواہوں میں اتنا فرق نہیں جتنا فرق یورپ اور امریکہ میں ایڈمنسٹریٹو عہد یداروں اور پادریوں کی تنخواہوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ایک پادری جاتا ہے تو اُس کی جگہ دوسرا آ جاتا ہے۔غرض اُن دو طلباء نے وہی بات دہرا دی جو میں خطبہ میں بیان کر چکا تھا یعنی آپ مبلغین کا گزارہ بڑھا دیں، واقفین خود بخود آنے لگ جائیں گے۔حالانکہ اگر گزارہ بڑھا دیا جائے تو ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے بھی لوگ تبلیغ کیلئے آجائیں گے۔ایک طالب علم نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ چونکہ جامعتہ المبشرین کے طلباء اور تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کے وظائف میں فرق کیا جاتا ہے اس لیے جامعتہ المبشرین میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے طلباء