خطبات محمود (جلد 37) — Page 555
$1956 555 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہتے ہیں کہ آؤ تم ہمارے ہو لیکن ان کی آنکھوں سے شرارے ٹپکتے ہیں۔اگر ان کا بس چلے ہی تو وہ انہیں جہنم واصل کر دیں۔اور اگر 1953ء والے فسادات پھر ہوئے تو یہی لوگ جو ہم سے جُدا ہوئے ہیں سب سے پہلے غیر احمدیوں کے ہاتھ سے اس کا شکار ہو ں گے۔اور غیر احمدی کبھی نہیں مانیں گے کہ یہ احمدیت چھوڑ چکے ہیں بلکہ ان کو طعنہ دیں گے کہ تم پوشیدہ پوشیدہ احمدیوں سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ جب گزشتہ فسادات کی انکوائری ہوئی تو گجرات کا ای ایک وکیل پیغامیوں کی طرف سے پیش ہوا۔مسٹر جسٹس منیر نے اُسے بڑے جوش سے کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم احراریوں کے ساتھ کھڑے ہو؟ اگر تم ان لوگوں کے ساتھ ہو تو وجہ کیا ہے کہ جب لوگ ربوہ والوں پر ظلم کر رہے تھے تم پر بھی کر رہے تھے ؟ اگر یہ لوگ واقع میں تمہارے خیر خواہ تھے تو مولوی صدرالدین صاحب نے پولیس میں کیوں رپورٹ کی تھی کہ ہمیں کی حملہ آوروں سے بچاؤ؟ پھر اگر تم ان لوگوں کے ساتھ تھے تو یہ تمہارے گھروں پر حملے کیوں کرتے تھے اور تم کو پولیس میں رپورٹ دینے اور اس سے مدد طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ اور پھر غصہ سے جہاں ہماری جماعت والے بیٹھے تھے اُن کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر بیٹھو۔لیکن اب لکھتے ہیں کہ ہم نے اُن دنوں جماعت کی بڑی مدد کی۔اگر انہوں نے ہماری جماعت کی مدد کی ہوتی تو انکوائری کے وقت ہمارے ساتھ کیوں نہ بیٹھتے اور جسٹس منیر انہیں جھڑ کتے کیوں اور یہ کیوں کہتے کہ جاؤ اور ان کے ساتھ بیٹھو۔انہیں تو خود کہنا چاہیے تھا کہ ان لوگوں میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔پس فسادات کے دنوں میں تو یہ اپنی جانیں بچاتے پھرتے تھے انہوں نے ہماری مدد کیا کرنی تھی۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص مرغ کو ذبح کر رہا ہو اور فرض کرو مرغ کو زبان مل جائے تو وہ کہے میں س وقت تمہاری جان بچا رہا ہوں۔جو آپ ذبح ہو رہا تھا اُس نے ہماری جان کیا بچانی تھی۔تو آپ خطرہ میں تھے۔لیکن جب شور دب جاتا ہے تو بعض لوگ ان کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ اس پر خوش ہو جاتے ہیں کہ فلاں نے ہماری تعریف کی۔اور یہ نہیں جانتے ہے کہ اگر کبھی خطرہ کا وقت آیا تو وہ لوگ ان کی ویسی ہی مخالفت کریں گے جیسی ہماری کر رہے ہیں۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر آئندہ کوئی خطرہ کا وقت آیا تو لوگ ان کی مخالفت ہماری نسبت