خطبات محمود (جلد 37) — Page 517
$1956 517 خطبات محمود جلد نمبر 37 جاتی ہیں اور بعض چیزیں نصف سے بھی کم قیمت پر مل جاتی ہیں اور اگر ہمارے جلسہ سالانہ کا خرچ ساٹھ پینسٹھ ہزار روپے ہو تو وقت پر چیزیں خریدنے کی وجہ سے یہ خرچ چالیس پینتالیس ہزار یا زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے تک آ جاتا ہے۔پھر یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم میں بہت سی کمزوریاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں مخلص خادم عطا فرمائے ہیں جن کی محنت اور اخلاص کی وجہ سے ہمارے لنگر کا خرچ جلسہ سالانہ کے موقع پر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔باہر کھانے کا خرچ ایک روپیہ فی کس فی وقت پڑتا ہے لیکن ہمارے جلسہ پر کام کرنے والے جس محنت اور قربانی سے کام لیتے ہیں اور جس طرح مفت سلسلہ کی خدمات بجالاتے ہیں جس طرح نان پز اور باورچی بعض اوقات کم رقمیں لے کر کام کر دیتے ہیں اُس کی وجہ سے میں نے حساب لگایا ہے کہ ہمارا فی کس خرچ ایک آنہ پانچ پیسے یا ڈیڑھ آ نہ پڑتا ہے۔اگر ڈیڑھ آنہ بھی لیا جائے تو تین دن کا کھانا ساڑھے چار آنہ میں پڑ جاتا ہے۔گویا ایک روپیہ میں چار آدمیوں نے جلسہ گزار لیا۔اگر جلسہ سالانہ پر ساٹھ ہزار روپیہ خرچ ہو تو اڑھائی لاکھ آدمیوں کا گزارہ ہو گیا۔باہر اتنے آدمی ہوں تو کم سے کم تین چار لاکھ روپیہ خرچ آئے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے اس اخلاص کو زیادہ سے زیادہ بڑھاتا چلا جائے کیونکہ جوں جوں جماعت بڑھے گی۔جلسہ پر آنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی اب اگر جلسہ سالانہ کے موقع پر چالیس پچاس ہزار آدمی باہر سے آتا ہے تو چند ہی سال میں تم دیکھو گے کہ اِنشَاءَ اللہ لاکھ، ڈیڑھ لاکھ، دو لاکھ ، اڑھائی لاکھ ، تین لاکھ ، چار لاکھ ، پانچ لاکھ، دس لاکھ، پندرہ لاکھ بلکہ ہمیں لاکھ بھی آئے گا۔اور ہمیں لاکھ آدمی آئے اور اس وقت جو جلسہ پر خرچ ہوتا ہے اسی نسبت سے خرچ لگایا جائے تو پانچ لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔اور اگر باہر والا خرچ لگایا جائے تو ایک کروڑ سے بھی زیادہ خرچ ہو گا۔کیونکہ ہر مہمان نے چار دن کھانا تین دن بھی کھانا کھائے تب بھی چھ وقت کا کھانا دینا ہو گا۔اور اگر ہے۔ایک ایک روپیہ فی وقت بھی خرچ لگایا جائے تو تین دن کا خرچ چھ روپیہ فی کس بنتا ہے۔کھانا