خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 474

$1956 474 خطبات محمود جلد نمبر 37 یا جنگل میں سارا دن گھاس کاٹتا ہے اور شام کو آکر اُسے بازار میں بیچتا ہے۔اس کے بدلہ میں اسے مثلاً ایک روپیہ ملتا ہے اور اس میں سے وہ ایک آنہ سلسلہ کو دے دیتا ہے اور کہتا ہے اس ، اسلام پھیلے گا۔گویا اسلام سے اس کو اتنی محبت ہے کہ وہ یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ میں نے سارا دن گھاس کاٹا ہے یا مزدوری کی ہے۔اب چند پیسے ملے ہیں تو ان سے بیوی بچوں کی روزی کا سامان کروں۔بلکہ کہتا ہے چندہ دے دو اِس سے امریکہ میں اسلام پھیلے گا، یورپ میں اسلام پھیلے گا۔اب ہیمبرگ (جرمنی) کی مسجد کی تحریک ہوئی تو بعض غریب لوگوں نے بھی ڈیڑھ ڈیڑھ سو کی رقم بھیج دی۔اسی طرح کوئی بیوہ ہے تو وہ رقم بھیج رہی ہے کہ یہ مسجد میں دے دو۔پچھلے سال جب میں ولایت سے آیا تو ایک لڑکا مجھے ملا اور اس نے کہا میری ماں نے دو ہزار روپیہ بھیجا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد کے لیے چندہ میں دے دیا جائے۔حالانکہ وہ خود بیوہ تھی۔تو یہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کا نمونہ ہے۔اگر یہ نمونہ اور بڑھے تو اللہ تعالیٰ اور زیادہ برکت دے دے گا۔اب تو احمدی پانچ چھ لاکھ ہیں۔اگر سارے مسلمان احمدی ہو جائیں تو وہ چالیس کروڑ ہو جاتے ہیں۔اور اگر چالیس کروڑ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ بن جائیں تو پھر سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ ہم غریب ہیں۔ہم امریکہ اور یورپ کو یوں دبوچ لیں جیسے باز چڑیا کو دبوچ لیتا ہے اور دنیا کے کونہ کونہ تک اسلام پھیلا دیں۔کیونکہ قطره قطره میشود دریا ایک ایک قطرہ مل کے دریا بن جاتا ہے۔اگر چالیس کروڑ آدمی مل جائے اور وہ روپیہ روپیہ بھی سال میں چندہ دے تو چالیس کروڑ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔اب تو ہماری جماعت بہت غریب ہے۔پھر بھی اوسط چندہ فی کس اڑھائی تین روپیہ بن جاتا ہے۔اگر چالیس کروڑ مسلمان ہو جائیں اور آٹھ آنے اوسط چندہ ہو تو ہمیں کروڑ روپیہ سالانہ آ جائے گا جس کے معنے ہیں ڈیڑھ کروڑ روپیہ ماہوار۔اس سے ہم دنیا کے چپہ چپہ میں مبلغ بھیج سکتے ہیں اور اتنا لٹریچر شائع کر سکتے ہیں کہ کوئی یورپین اور عیسائی ایسا نہ رہے جس کے پاس اسلامی کتابوں کا ذخیرہ نہ ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے