خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 449

$1956 449 خطبات محمود جلد نمبر 37 مقابلہ کرنے والی ہو گی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ نظامِ دینی سے الگ ہونے والوں کے مقابلہ میں ہمارا کیا سلوک ہوتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ آجکل بعض مسلمان علماء نے لفظ ارتداد کو ایسا بھیانک بنا دیا ہے کہ وہ بالکل ایک نئی چیز بن گیا ہے۔حالانکہ ارتداد کے صرف یہ معنے ہیں کہ انسان ایک نظام کو چھوڑ کر کسی اور نظام میں شامل ہو جائے۔خدا تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ ایسے آدمی کو قتل کر دیا جائے۔جیسا کہ بعض مسلمان علماء غلطی سے ایسا سمجھتے ہیں بلکہ اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر واقع میں تم مومن ہو تو جو تمہارے نظام کو چھوڑے گا اُس کے متعلق تم کو کچھ کرنے کا حکم نہیں بلکہ اُس کے متعلق ہم ایک ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک ایک شخص جو تمہارے نظام کو چھوڑے گا اُس کے بدلہ میں ہم ایک ایک قوم کفار میں سے لا کر تمہارے اندر داخل کر دیں گے جن سے خدا محبت کرے گا اور جو خدا سے محبت کریں گے۔لیکن مسلمان علماء یہ سمجھتے ہیں کہ نظام دینی سے الگ ہونے والے کی گردن کاٹ دینی چاہیے۔حالانکہ اس کی گردن کاٹ دینے سے اسلام کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اسلام کو تو اُس وقت فائدہ ہو گا جب الله تعالى فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةَ " كے ماتحت اُس کے کی جگہ ایک قوم لے آئے اور مسلمانوں کو زیادہ کر دے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے کہ ہم ایک کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم نظام سے بھاگنے والے ایک شخص کی جگہ ایک قوم لے آئیں گے۔اب دیکھو! قرآن کریم کے بیان اور اس زمانہ کے علماء کی تفسیر میں کتنا عظیم الشان ، فرق ہے۔آجکل کے علماء کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نظام دینی سے نکل جائے تو اُس کے متعلق خدا تعالیٰ پر کوئی فرض عائد نہیں ہوتا۔ہم پر یہ فرض عائد ہے کہ ہم اُسے قتل کر دیں۔حالانکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اگر نظام دینی کی طرف منسوب ہونے والے لوگ سچے مومن ہیں اور کوئی شخص ان میں سے واقعی طور پر مرتد ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک نئی قوم مسلمانوں میں داخل کر دیتا ہے۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ احمدی مرتد ہیں اس لیے واجب القتل ہیں۔لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر وہ واقع میں مرتد ہیں اور غیر احمدی واقع میں