خطبات محمود (جلد 37) — Page 421
خطبات محمود جلد نمبر 37 421 $1956 جب وہ یہاں آئے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے آ گئے؟ انہوں نے ک کہا میرے چھوٹے بھائی لاہور میں رہتے ہیں۔ان کی بیوی اور میری بیوی دونوں بہنیں ہیں۔ان کی تار پہنچی کہ ان کی بیوی کو ٹھے پر سے گر گئی ہے اور اسے فالج ہو گیا ہے۔اس خبر کے پہنچتے ہی میری بیوی رونے لگ گئی۔میں نے اسے تسلی دی لیکن اسے اطمینان نہ ہوا۔آخر میں نے اسے کہا کہ میں خود لاہور جاتا ہوں اور مریضہ کا علاج کرتا ہوں۔چنانچہ میں لاہور آ گیا۔میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لاہور محض آپ کی خاطر لایا ہے۔اس لیے میں نے لاہور پہنچتے ہی آپ کو تار کے ذریعہ اطلاع دے دی۔بہر حال وہ طبیب یہاں آئے اور دودن تک یہاں رہے۔انہوں نے جو دوائی مجھے دی اُس کی ایک ہی خوراک کھانے سے وہ مرض دور ہو گیا اور میرا جسم گرم ہو گیا۔اب دیکھ لو طب کو ہمارے ملک والے بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ بہت حقیر سمجھتا ہے لیکن یورپ میں بھی بڑے بڑے ڈاکٹر موجود تھے جن کا علاج کروایا گیا اور لاہور میں بھی بڑے بڑے ڈاکٹر موجود ہیں جن سے مشورہ لیا گیا۔پھر بھی اُن کی بتائی ہوئی کسی دوائی۔فائدہ نہ ہوا۔لیکن اس طبیب کی بتائی ہوئی دوائی کی ایک ہی خوراک سے وہ مرض دور ہو گئی بلکہ اس نے ایسا اثر کیا کہ بجائے سردی لگنے کے مجھے پسینہ آنے لگ گیا۔اب دیکھ لو یہ پرانی طب تھی جس نے مجھ پر اثر کیا۔گالیاں دینے کو کوئی سو دفعہ پرانی طلب کو گالیاں دے لے لیکن مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہے کہ جہاں ڈاکٹروں کا علاج ناکام ہوا وہاں ایک طبیب کے بتائے ہوئے علاج سے فائدہ ہو گیا۔اب اس تجربہ کو کیسے چھپایا جائے۔جرمن ڈاکٹر جس سے میں نے علاج کرایا تھا اور جس پر مجھے بھی اعتماد ہے اُسے لکھا گیا تو اُس نے کہا کہ جو دوائی میں نے آپ کو بتائی تھی اُس کی ایک گولی زیادہ کھا لیا کریں۔میں نے کہا کہ میں تو چھ چھ ، سات سات گولیاں کھا جاتا ہوں۔حالانکہ یورپ والے کہتے ہیں کہ دو تین گولیوں سے زیادہ نہیں کھانی چاہیں۔مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کہنے لگا بس ! یہی علاج ہے کہ ایک گولی اور کھا لیا کریں۔جس طرح جسمانی باتوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے اسی طرح دینی باتوں میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے اور پرانے علماء کی کتابوں میں ایسے معلومات کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ