خطبات محمود (جلد 37) — Page 397
$1956 397 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو وہ کہتا ہے یہ تو ہمارے مائی باپ ہیں۔اب اگر کسی کے مائی باپ کسی کو اپنے مکان میں گھسنے سے روکیں تو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔غرض کسی شکل اور کسی نہج اور کسی پہلو سے بھی دیکھا جائے یہ بات ثابت ہے کہ ربوہ میں کوئی حکومت در حکومت قائم نہیں۔جو احکام بھی دیئے گئے ہیں وہ رائج الوقت قوانین کے ماتحت دیئے گئے ہیں۔صرف ان کے توڑ مروڑ کر غلط معنی لیے گئے ہیں اور توڑ مروڑ کر غلط معنی تو دشمن ہمیشہ لیتا ہی رہتا ہے۔اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔دنیا میں اس قسم کے کئی خبیث انسان گزرے ہیں۔مثلاً لیکھرام کو ہی لے لو۔وہ کہا کرتا تھا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 7 میں مسلمانوں کو ( نَعُوذُ بِاللهِ ) لواطت کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ مستقیم اس آنت کو کہتے ہیں جو مبرز 8 کے سوراخ کے قریب ہوتی ہے۔اب دیکھ لو! ایک مخالف اور خبیث انسان کس طرح ایک اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کو بھی توڑ مروڑ کر کچھ سے کچھ بنا دیتا ہے۔پس اگر امور عامہ کہتا ہے کہ ربوہ میں نہ آؤ تو اس کے معنی وہ ربوہ ہے جو اُس کے۔قبضہ میں ہے اور اُس کو ایسا کہنے کا حق حاصل ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اُسے اس حق سے باز نہیں رکھ سکتی۔ورنہ تصرف بیجا یعنی ٹریس پاسنگ (Trespassing) کا کوئی قانون باقی نہیں رہتا حالانکہ یہ قانون نہایت اہم ہے اور اس بارہ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ڈگریاں ہو چکی ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی کے کھیت سے گڈا گزارے تو وہ عدالت میں اُس کے خلاف نالش کر سکتا ہے۔بلکہ عدالتوں نے تو اتنی سختی کی ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے ایک اور شخص کی شکایت کی کہ اُسے اس کے کھیت میں سے گڈا گزارنے سے روکا جائے۔ہائیکورٹ نے یہ مقدمہ سنا تو فریق ثانی نے کہا کہ اس کے متعلق سابق فیصلہ موجود ہے اور عدالت نے ہمیں ایسا کرنے کا حق دیا ہوا ہے اور ہم دیر سے ان کے کھیت میں سے گڈا گزار رہے ہیں۔دوسرے فریق نے کہا کہ پہلے زمانہ میں یہ کوئلہ والے گڈے گزارا کرتے تھے اور اب یہ روڑی کے گڈے گزارتے ہیں جس پر ہمیں اعتراض ہے۔اس پر عدالت نے مالک کا حق تسلیم کیا اور کہا کہ اگر پہلے یہ کوئلہ والا گڈا گزارتا تھا اور عدالت نے اسے ایسا کرنے کا حق دیا تھا تو بھی اسے کوئلہ والا گڈا گزارنے کا حق ہے روڑی والا گڈا گزارنے کا حق نہیں۔