خطبات محمود (جلد 37) — Page 381
$1956 381 خطبات محمود جلد نمبر 37 یعنی فیضی نے بیان لکھا کہ میاں طاہر احمد کو اس لیے لندن بھیج دیا گیا ہے کہ وہ حضرت صاحب کی جگہ خلیفہ نہ ہو جائے۔بلکہ اُس نے یہ بھی کہا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب کو بھی جو اس کے خسر ہیں اس لیے دمشق بھیج دیا گیا ہے کہ وہ خلیفہ نہ ہو جائیں۔حالانکہ سید ولی اللہ شاہ صاحب شاید ربوہ میں سب سے زیادہ مبغوض 4 انسان ہیں۔اگر ووٹ لیے جائیں تو سب سے زیادہ ووٹ انہی کے خلاف ہو گا۔میں نے انہیں دمشق کیا بھیجنا تھا ان کے فتنوں کے خط میرے پاس موجود ہیں کہ صدرانجمن احمد یہ مجھے کرایہ نہیں دیتی۔مجھے جلدی کرایہ لے کر دیں تا کہ میں دمشق جاؤں اور اپنے بیوی بچوں کو واپس لاؤں۔پھر ان کی بیوی کی تاریں بھی موجود ہیں کہ میرے خاوند کو جلدی بھیجیں تا کہ وہ مجھے واپس لے جائیں۔گویا ایک طرف تو فیضی کی ساس منت کرتی ہے کہ میرے خاوند کو جلدی بھیجیں کہ وہ مجھے واپس لے جائیں اور دوسری طرف سید ولی اللہ شاہ صاحب منتیں کرتے ہیں کہ صدرانجمن احمدیہ کو توجہ دلائیں کہ وہ مجھے جلدی کرایہ دے مگر جب میں انہیں وہاں بھیجتا ہوں تو ان کا داماد کہتا ہے کہ انہیں اس لیے دمشق بھیج دیا گیا ہے کہ وہ کہیں خلیفہ نہ ہو جائیں۔یہ کتنی بے حیائی کی بات ہے کہ ایک طرف احسان کرانا اور دوسری طرف اس کے بُرے معنے لینا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ذلیل سے ذلیل انسانوں بلکہ چوڑھوں اور چماروں میں بھی یہ بات نہیں پائی جائے گی گجا یہ کہ ایک معزز اور شریف زمیندار خاندان کا فرد یہ باتیں کہے۔اس شخص کے والد بڑے نیک اور پرانے مخلص احمدی تھے اور اپنی جماعت کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے، اس کا بھائی بڑا مخلص ہے اور ضلع کی جماعت کا امیر ہے۔ایسے خاندان کا فرد ہو کر اس قدر ذلیل بات کرنا کتنی عجیب بات ہے۔جس بات کے لیے اس کی ساس نے تاریں دیں، جس بات کے لیے اس کی ساس نے خطوط لکھے، جس بات کے لیے اس کے خسر نے مجھے بار بار کہا کہ صدرانجمن احمد یہ مجھے کرایہ نہیں دیتی مجھے کرایہ لے کر دیں تا کہ میں اپنے بیوی بچوں کو واپس لاؤں اس بات کو یہ رنگ دے دینا کہ میں نے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو اس لیے پاکستان سے باہر بھیجا ہے کہ وہ خلیفہ نہ ہو جائیں کتنی ذلیل حرکت ہے۔تم سوچو کہ کیا اتنے گند کی مثال کسی ادنیٰ سے ادنیٰ قوم میں بھی دکھائی دے سکتی ہے؟ ایک نٹ 5 کو ہی لے لو۔تم اُسے ایک پیسہ بھی دو تو وہ دعائیں دیتا