خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 379

خطبات محمود جلد نمبر 37 379 $1956 اب بھی ممکن ہے کہ میری ان خوابوں کا ذکر سن کر بعض پیغامی کہنا شروع کر دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو لکھا ہے کہ سچی خواہیں کنجریوں کو بھی آ جاتی ہیں۔میں ایسے کی لوگوں سے کہتا ہوں کہ کیا ان میں سے کوئی شخص کنجریوں کے برابر بھی نہیں کہ اسے کچی رویا دکھائی جائیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر تم اپنی خواہیں پیش نہیں کر سکتے تو اپنی بیویوں کی ہی کچی خوا ہیں پیش کر دو جو انہوں نے آج سے چھ سال قبل یا دس سال یا اکیس سال پہلے دیکھی ہوں اور وہ شائع بھی ہو چکی ہوں اور تم ان کے متعلق دعوی کے ساتھ کہہ سکو کہ وہ پوری ہو گئی ہیں۔اگر تم اُن کی ایسی خواہیں پیش کر دو تو ہم پھر بھی یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ تمہاری بیویوں کی وہ خواہیں پوری ہوگئی ہیں اس لیے وہ نَعُوذُ بِاللہ کنجریاں ہیں بلکہ ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں پر اپنا فضل نازل کیا اور انہیں کچی خوا میں دکھا دیں جو پوری ہو گئیں۔گویا ہم تمہارے جیسا سخت معاملہ نہیں کریں گے۔بلکہ ہم شرافت سے کام لیں گے اور سمجھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں پر اپنا فضل نازل کیا اور انہیں اپنے انعام سے نوازا۔بہر حال میرا مطالبہ یہ ہے کہ تم میرے مقابلہ میں کوئی ایک رؤیا ہی پیش کرو جس سے تمہاری صداقت ظاہر ہو سکے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاتُوْا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ 2 اگر تم سچے ہو تو تم کوئی ایک سورت ہی اس قرآن جیسی بنا کر دکھا دو۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ایک دفعہ الہام ہوا کہ فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِنْ مِثْلِهِ 3 کہ جیسی شفا اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ روحانی اور جسمانی مریضوں کو دی ہے تم اس شفا کی کوئی مثال پیش کرو۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر سچی خوابیں کنجریوں کو بھی آ جاتی ہیں تو تم میرے مقابلہ میں اپنی سہی اپنی بیویوں کی ہی کوئی ایسی خواب پیش کرو جس میں سالہا سال قبل اس قدر علم غیب کا اظہار کیا گیا ہو جس قدر اظہار غیب میری خوابوں میں موجود ہے۔اگر تم کوئی ایسی مثال پیش کر ہم پھر بھی تمہاری بیویوں کے متعلق کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کریں گے۔بلکہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے اُن پر فضل کیا کہ انہیں اپنے غیب سے اطلاع کر دی۔اور اگر میرے مقابلہ میں نہ تم اپنی کوئی مثال پیش کر سکو اور نہ اپنی بیویوں کی کوئی مثال پیش کر سکو تو تمہارا یہ کہنا کہ سچی خوا میں تو کنجریوں کو بھی آ جاتی ہیں بتاتا ہے کہ تم اُن سے بھی بدتر ہو کہ جو انعام کنجریوں پر بھی