خطبات محمود (جلد 37) — Page 330
$1956 330 خطبات محمود جلد نمبر 37 شوق تھا۔وہ میرے پاس آیا تو میں نے اُس سے دریافت کیا کہ اب کیا حال ہے؟ اُس نے کی کہا جس دن سے میں نے اپنی جگہ بدلی ہے میرے سارے وساوس دور ہونے شروع ہو گئے یہی بات یہاں ہے۔اگر بعض لوگ کسی شخص کو اپنا دشمن خیال کریں اور اُس پر توجہ کرنا شروع کر دیں کہ وہ بیمار ہو جائے تو آہستہ آہستہ اس کا دماغ اثر قبول کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں بیمار ہوں۔مجھ پر بھی یہی اثر ہوا مگر 29 جولائی کو 5 بجے صبح مری میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اللہ تعالیٰ نے تو مجھے بالکل اچھا کر دیا مگر میں اپنی بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں“۔یعنی مجھے اپنے نفس پر بدظنی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو پوری طرح جذب نہیں کرتا۔اور بیماری کے متعلق یہ مایوسی ہے کہ وہ ابھی دور نہیں ہوئی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بالکل صحت عطا فرما دی ہے۔عجیب بات ہے کہ یہی بات مجھے جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کے ڈاکٹروں نے کہی۔ایک بہت بڑے ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ آپ بالکل اچھے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ میرے علاوہ یہاں کے سو اچھے ڈاکٹروں سے بھی اپنا معائنہ کرائیں تو وہ یہی کہیں گے کہ آپ بالکل اچھے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ آپ انہیں بتائیں نہیں کہ پر فالج کا حملہ ہو چکا ہے۔اگر آپ بتا دیں گے تو وہ بھی وہم کرنے لگ جائیں گے۔پھر اُس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ آپ غیر معمولی رنگ میں کام کر رہے تھے کہ یک دم آپ بیمار ہو گئے۔اب اگر چہ آپ تندرست ہو گئے ہیں لیکن آپ کا دماغ بیماری کے خیال میں دب گیا ہے۔اگر آپ اس خیال کو اپنے دماغ سے نکال دیں تو آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں بتائی ہے کہ میں بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں ورنہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بالکل صحت عطا فرما دی ہے۔چنانچہ یہ بالکل و ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بیماری کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔صرف کام کرنے کے بعد ایک کوفت سی میں اپنے جسم میں محسوس کرتا ہوں۔لیکن یہ ایک طبعی امر ہے کیونکہ جب انسان پر کسی بیماری کا حملہ ہو چکا ہو تو وہ جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔پھر میری عمر بھی زیادہ