خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 292

$1956 292 خطبات محمود جلد نمبر 37 کس طرح کوشش کروں۔یہ ہتھکڑیاں میرے ہاتھوں میں پڑی رہنی چاہیں تا کہ میر رب کی بات پوری ہو۔اب دیکھو! انہیں یہ وثوق اور یقین اسی لیے حاصل ہوا کہ انہوں نے خود ایک خواب دیکھا تھا۔اسی طرح خواہ کوئی کتنا ہی قلیل علم رکھتا ہو اگر وہ کوئی خواب دیکھ لے تو بزدلی کی وجہ سے وہ اُس کو چھپا لے تو اور بات ہے ورنہ اپنی جھوٹی خواب پر بھی اسے اس سے زیادہ یقین ہوتا ہے جتنا اسے نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات پر یقین ہوتا ہے۔بیشک سب مسلمان قرآن کریم کی سچائی پر اپنے دل سے ایمان رکھتے ہیں مگر جسے خود کوئی خواب آ جائے یا وہ کوئی کشفی نظارہ دیکھ لے اسے اس خواب اور کشف پر دوسرے معجزات اور الہامات سے زیادہ یقین ہوتا ہے۔پس ی اللہ تعالیٰ کے زندہ معجزات انسان کے ایمان کو بہت زیادہ تازہ کرتے ہیں یہ نسبت اُن معجزات اور نشانات کے جو بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں اور پہلے صلحاء واولیاء اور اللہ تعالیٰ کے مامورین نے دکھائے ہوتے ہیں۔پس مومن کو اپنی ذات میں بھی معجزات دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کو بڑھائے اور اس کے اندر ایک نیا یقین اور نئی معرفت پیدا کرئے“۔( الفضل 22 جولا ئی 1956ء) 1 : دو تہیاں: ( دو تہی ) ایک قسم کا دوہرا دو عرض کا موٹا کپڑا جس کے کنارے نیلے سرخ ہوتے ہیں اور جو دری کے اوپر یا چادر کے نیچے بچھایا جاتا ہے۔استر والا کپڑا۔2 : الانعام: 26 (اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 9 صفحہ 587 کراچی دسمبر 1988ء )