خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 286

$1956 286 خطبات محمود جلد نمبر 37 کھڑا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہیں مجھے پھانسی دی جائے گی اور لوگ مجھ پر مٹی ڈال کر چلے جائیں گے۔میں خواب میں سخت ڈر رہا ہوں کہ اب کیا کروں۔اتنے میں مجھے دو گروہ نظر ئے۔ایک غیر احمدیوں کا تھا اور ایک احمدیوں کا تھا۔پہلے غیر احمدیوں کی طرف سے میرے پاس ایک آدمی آیا اور اُس نے کہا ہم تمہارے لیے دعا کرتے ہیں بشرطیکہ تم اس بات پر راضی ہو جاؤ کہ احمدیت کی طرف توجہ کرنا تم چھوڑ دو گے۔اس پر میرے دل میں کمزوری پیدا ہوئی اور میں نے کہا اچھا تم دعا کرو۔چنانچہ انہوں نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور میں نے بھی ہاتھ اُٹھا لیے مگر لمبے عرصہ تک دعا کرنے کے باوجود میں سمجھتا رہا کہ میری سزا اب تک قائم ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ احمدی گروہ میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا ہم تمہارے لیے دعا کریں کہ خدا تمہیں اس مصیبت سے بچائے؟ میں نے کہا ضرور کریں۔چنانچہ انہوں نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔وہ کہتے ہیں ابھی احمدیوں کو دعا کرتے ہوئے پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ میں نے دیکھا ایک سائیکل سوار اپنے سائیکل کو دوڑاتا چلا آ رہا ہے اور اُس کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔جب وہ قریب پہنچا تو اس نے آ کر کہا کہ تمہیں بری کر دیا گیا ہے۔دیکھو! یہ خدا کا کیسا تصرف ہے کہ اُس نے ایک غیر احمدی کو رؤیا کے ذریعہ بتا دیا کہ احمدیت کچی ہے۔اب خواہ وہ کمزوری دکھا کر احمدیت کو قبول کرنے سے ہچکچائے اللہ تعالیٰ نے اس پر جو حقیقت کھول دی ہے اس سے وہ انکار نہیں کر سکتا۔یہاں ایک بڑا فوجی افسر ہے ایک دن اُس کے ایک ماتحت افسر نے اُس سے کہا کہ میں نے خواب دیکھی ہے کہ احمدیت کچی کی ہے۔اُس بڑے افسر نے یہ بات سن کر کہا کہ تم تو خواب دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اور میں نے تو کوئی خواب بھی نہیں دیکھی پھر تم مجھے کس طرح کہتے ہو کہ میں احمدیت کو قبول کر لوں۔تو حقیقت یہی ہے کہ جب کوئی شخص احمدیت کی صداقت کے متعلق خواب دیکھ لیتا ہے تو اُس کے بعد خواہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بیعت نہ کرے وہ احمدیت کی صداقت کا اپنی ذات میں ایک ثبوت بن جاتا ہے اور جب بھی وہ کسی کے سامنے اپنی خواب بیان کرتا ہے دوسرا اُسے شرمندہ کرتا ہے کہ تو بڑا بزدل ہے کہ اتنی واضح خواب دیکھنے کے بعد بھی تو ایمان نہیں لایا۔