خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 284

$1956 284 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو میرے خیال میں پہلے سال ہی یہ پانچ مسجد میں بن سکتی ہیں اور صرف بارہ یا چودہ باقی جاتی ہیں۔ره پھر امریکہ کی باری آ جائے گی۔امریکہ چونکہ ایک وسیع ملک ہے اس لیے اس میں شاید ایک ہزار مسجد کی ضرورت ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کوئی شخص کسی نیک کام کا آغاز کرتا ہے تو پھر اُس میں ایسی برکت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہی لوگ جو ابتدا میں اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے وہ خود بڑے شوق سے اس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔جب مسلمان مختلف اخبارات میں یہ خبریں پڑھیں گے کہ فلاں ملک میں بھی مسجد بن گئی وی ہے، فلاں ملک میں بھی مسجد بن گئی ہے اور انہیں بتایا جائے گا کہ تم نے تو تھوڑا سا چندہ دیا تھا روپیہ ہم نے اپنے پاس سے دیا تھا اور اس طرح یورپ میں ہیں مسجدیں بن گئی ہیں۔اب ایک سو مسجد امریکہ میں بنانے کا ارادہ ہے تو وہ شخص جس نے پہلے صرف ایک روپیہ دیا تھا پھر تمہیں سو روپیہ دینے کے لیے بھی تیار ہو جائے گا۔میں نے دیکھا ہے پچھلے دنوں جب میں ولایت سے واپس آیا تو ایک سنار عورت نے دو ہزار روپیہ مجھے مساجد کے لیے بھجوا دیا۔اُس سے میں نے سمجھا کہ مسجدیں چونکہ خدا کا گھر ہیں اس لیے خدا خود لوگوں کے دلوں میں مساجد بنوانے کی تحریک پیدا کرتا رہتا ہے۔یہی حال حج کا ہے۔آجکل گیارہ بارہ سو میں حج ہو جاتا ہے۔مگر حج پر جانے والے اکثر غرباء ہی ہوتے ہیں۔وہ امراء جو گیارہ گیارہ بارہ بارہ سو روپیہ ایک ایک پارٹی پر خرچ کر دیتے ہیں وہ حج کے لیے نہیں جاتے۔جانے والے وہی ہوتے ہیں جو دال روٹی کھا کر گزارہ کرتے اور تھوڑا بہت روپیہ بچاتے رہتے ہیں یا اپنی بھینسیں فروخت کرتے ہیں، دو تہیاں 1 بیچتے ہیں، مکان اور زمین فروخت کرتے ہیں اور روپیہ لے کر حج کو چلے جاتے ہیں۔پس وہی شخص جو آج مساجد کے لیے صرف ایک روپیہ دیتا ہے جب مسجدوں کی تصویریں شائع ہوں گی اور اخبارات میں چرچا ہو گا تو اگلی مساجد کے لیے وہ پہلے سے بہت زیادہ روپیہ دینے کے لیے تیار ہو جائے گا۔اور جب اُسے بتایا جائے گا کہ اگر اُس نے معقول مقدار میں چندہ دیا تو اُس کا نام بھی مسجد پر لکھا جائے گا تو اُس کا شوق اور زیادہ تیز ہو