خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 270

$1956 270 خطبات محمود جلد نمبر 37 اسے واپس دی جائے۔بھلا یہ کوئی بات ہے کہ دربار کا موقع ہو اور کمشنر صاحب تشریف لائے ہوئے ہوں اور ایک میراثی کو اُن کے سامنے پیش کر دیا جائے اور کہا جائے کہ اس کی چھپیں ایکٹر زمین ضبط ہوگئی ہے وہ اسے واپس دلا دی جائے۔چونکہ وہ پیر تھے گو درباری بھی تھے اس لیے انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔دادا صاحب اُس میراثی سے کہنے لگے کہ تم میرے ساتھ چلو۔چنانچہ وہ اُسے ساتھ لے کر امرتسر پہنچے۔جب دربار لگا اور کمشنر صاحب آ گئے تو ہمارے دادا اُٹھ کر کمشنر کے پاس چلے گئے اور اپنے ساتھ اُس میراثی کو بھی لے لیا۔اور کمشنر ا سے کہنے لگے کہ کمشنر صاحب! ذرا اس کی بانہہ پکڑ لیں۔وہ کہنے لگا مرزا صاحب! اِس کا کیا ، مطلب؟ انہوں نے کہا مطلب میں پھر بتاؤں گا پہلے آپ اس کی بانہہ پکڑ لیں۔چنانچہ ان کے کہنے پر اُس نے میراثی کی بانہہ پکڑ لی۔اس پر ہمارے دادا صاحب کہنے لگے ہماری پنجابی زبان میں ایک مثال ہے کہ "بانہہ پھڑے دی لاج رکھنا۔کمشنر پھر حیران ہوا اور کہنے لگا اس کا کیا مطلب؟ وہ کہنے لگے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے ایک شخص کا بازو پکڑا ہے تو پھر اس بازو پکڑنے کی لاج بھی رکھنا اور اسے چھوڑنا نہیں۔وہ کہنے لگا مرزا صاحب! آپ یہ بتائیں کہ آپ کا اس سے مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا اس کی چھپیں ایکٹر زمین تھی جو گورنمنٹ نے ضبط کر لی ہے۔آپ لوگ مغل بادشاہوں کے قائم مقام ہیں اور مغل بادشاہوں کا یہ طریق تھا کہ وہ ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں کو انعام کے طور پر دے دیا کرتے تھے۔اب یہ غریب حیران ہے کہ ہم پر عجیب لوگ حاکم بن کر آ گئے ہیں کہ میرے پاس جو پہلے پچپیس ایکٹر زمین تھی وہ بھی انہوں نے ضبط کر لی ہے۔اُس پر ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اُسی وقت اپنے میر منشی کو بلایا اور اُسے کہا کہ ابھی یہ بات نوٹ کر لو اور آرڈر دے دو کہ اس شخص کو زمین واپس د دی جائے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنا بھی "ہاتھ پھڑے دی لاج رکھنے والی بات ہوتی ہے جس طرح کمشنر نے اُس میراثی کی بانہہ پکڑنے کے بعد اُس کی لاج رکھی اسی طرح خدا جس کی بانہہ پکڑے اُس کی بھی وہ لاج رکھ لیتا ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ انسانی اپنی کم حوصلگی کی وجہ سے بعض دفعہ گھبرا جاتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو ایسے