خطبات محمود (جلد 37) — Page 253
$1956 253 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہم سب ہنس پڑے مگر وہ بڑی سنجیدگی سے یہی سمجھتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آدم سے لے کر اپنے زمانہ تک اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک واقع ہونے والی ہر - بات کا علم ہے۔یہاں تک کہ اگر ٹوپی کا پھند نا ہلا ہے تو اس کا بھی آپ کو پتا ہے۔غرض ایک زمانہ وہ تھا کہ قرآن کریم فرماتا ہے بعض لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے اور لفظ وہی بولتے جو خدا نے کہے تھے مگر دل میں وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔وہ کہتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو جانتا تھا کہ آپ اس کے رسول ہیں مگر فرمایا کہ وہ بالکل جھوٹ بولتے ہیں دل میں آپ کو رسول نہیں سمجھتے۔پھر فرماتا ہے کہ کچھ اور لوگ ایسے ہیں جو آتے ہیں اور ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو بظاہر تعریف والے ہوتے ہیں مگر اُن کی مراد بُری ہوتی ہے۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔گویا وہ لفظ تو تعریفی بولتے مگر ایسے الفاظ میں تعریف کرتے جو خدا نے نہیں بولے۔اور پھر خدا تو کسی سے فریب نہیں کرتا، کسی سے دھوکا اور مکاری نہیں کرتا مگر ان کا مقصد بظاہر تعریفی الفاظ استعمال کر کے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص کرنا اور آپ کی تحقیر کرنا ہوتا تھا صرف دھوکا دینے کے لیے وہ اس کی شکل بدل دیتے تھے۔اب اس زمانہ میں ایک تیسری قسم کے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو مسلمان کہلاتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق وہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جو خدا نے نہیں بولے اور پھر دل میں سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔پہلے منافق وہ تھے جو بولتے تو وہی الفاظ تھے جو خدا نے بولے مگر دل میں انہیں تسلیم نہیں کرتے تھے۔منافق وہ تھے جو وہ لفظ بولتے تھے جو خدا نے نہیں بولے مگر دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے وہ ان الفاظ کو ایسے رنگ میں ادا کرتے تھے کہ بظاہر یہ سمجھا جاتا کہ وہ بڑی تعریف کر رہے ہیں حالانکہ اُن کا اصل مقصد تحقیر اور تذلیل کرنا ہوتا تھا۔اب ان کے مقابلہ میں ایک تیسرا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو وہ الفاظ استعمال کرتا ہے جو خدا نے استعمال نہیں کیے۔خدا کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک انسان تھے۔8 مگر وہ کہتے ہیں کہ جو شخص آپ کو