خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 241

$1956 241 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر ان کا بیٹا مر جائے یا ان کی بیوی مر جائے تو انہیں اس کے مرنے کا اتنا صدمہ نہیں ہو سکتا جتنا یورپ کے ایک مشن کے بھی خطرہ میں پڑنے سے مجھے ہوتا ہے۔انہوں نے سمجھا کہ جب ہم یہ بات پیش کریں گے تو وہ ی ہنستے ہنستے کہہ دیں گے کہ جب روپیہ ہی نہیں رہا تو اب سال بھر مشن بیشک بند رکھو مبلغ خود بخود کہیں سے قرض لے کر واپس آ جائیں گے اور ہم بھی ہنس کر کہہ دیں گے کہ ہم کیا کریں، غلطی ہوگئی ہے، روپیہ تو سب خرچ ہو گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے مشن اب اتنے پھیل چکے ہیں کہ ان کی نگرانی بڑی مشکل ہے۔جب تک پوری مضبوطی سے کام نہ کیا جائے اُس وقت تک مشکلات دور نہیں ہو سکتیں۔میں نے بعض افسروں کو نکال کر اپنے بیٹے کو اس کام پر مقرر کیا تھا مگر میں نے جو اُس سے امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں وہ مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آئیں۔میں نے سمجھا تھا کہ اس کے دل میں بھی وہی درد ہو گا جو میرے دل میں ہے۔مگر کیفیت یہ ہے کہ میں جب بھی کوئی بات پوچھوں مجھے کہا جاتا ہے کہ ہم پتا لے کر بتائیں گے حالانکہ مجھے چھ مہینے بلکہ سال بھر پہلے سب باتوں کا پتا ہوتا ہے اور گو میرا دماغ اب کمزور ہو گیا ہے مگر پھر بھی سب باتیں میرے دماغ میں موجود ہوتی ہیں۔مگر ان سے پوچھو تو جواب یہ ملتا ہے کہ اب پتا لیں گے۔حالانکہ دیانتداری یہ ہوتی ہے کہ افسر کو ہر چیز کا پتا ہو اور اسے معلوم ہو کہ چھ مہینے یا سال کے بعد یہ حال ہوتا ہے۔مثلاً افریقہ کے دوست ہیں وہاں بڑی بھاری مخلص جماعت ہے۔میرا یورپ کا سارا سفر انہیں کی امداد کی وجہ سے ہوا۔پچھلی دفعہ بھی افریقہ اور عرب کے لوگوں نے مدد کی تھی اور اب بھی زیادہ تر افریقہ کے دوستوں نے ہی مدد کی۔پھر ایک اور دوست کے ذریعہ بھی بڑی بھاری رقم حاصل کی گئی مگر انہوں نے ستمبر سے لے کر اب تک وہ ساری کی ساری رقم خرچ کر دی اور اب صرف پینتیس پونڈ باقی رہ گئے ہیں حالانکہ جب میں لندن سے چلا تھا اُس وقت چھتیں سو پونڈ موجود تھا اور گورنمنٹ کی طرف سے بھی چار ہزار پونڈ مل چکا تھا۔روپیہ کا حساب دے دینا تو کوئی بڑی بات نہیں۔حساب ہر ایک دے سکتا ہے۔اگر ایک ڈاکو سے پوچھو تو وہ ہے کہ اُس نے کہاں کہاں روپیہ خرچ کیا ہے۔اب بھی میں نے پوچھا بھی بتا۔سکتا