خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 200

$1956 200 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرنے والے ہیں۔اس کا علاج یہی ہے کہ تم ان سے ستر آدمی ضمانت کے طور پر مانگو تا کہ اگر وہ غداری کریں تو تم ان کو قتل کر سکو۔چنانچہ اس مشورہ کے مطابق عربوں نے یہودیوں کی طرف پیغام بھجوا دیا کہ بیشک تم اس وقت ہمارے ساتھ ہو لیکن ہوسکتا ہے کہ تم کسی وقت غداری کرو اس لیے پہلے اپنے ستر آدمی ہمارے حوالے کرو تا کہ اگر تم غداری کرو تو ہم انہیں سزا دے سکیں۔انہوں نے جواب بھجوایا کہ پہلے تم اپنے ستر آدمی ہمارے حوالے کرو تا کہ اگر تم غداری کرو تو ہم انہیں سزا دے سکیں۔اس سے قریش کو یقین آگیا کہ یہودیوں کے دلوں میں بدنیتی ہے اور یہود کو قریش پر بدظنی ہو گئی۔2 جب دونوں میں پھوٹ پڑ گئی تو عربوں نے سوچا کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ تھا کہ جس طرف یہود ہیں اُس طرف سے ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں مگر اب تو یہود بھی بدنیت ہو گئے ہیں۔اس لیے اب ہماری کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔اب ہمیں واپس چلنا چاہیے۔چنانچہ رات کو انہوں نے واپسی کا فیصلہ کیا اور ایسا خفیہ فیصلہ کیا کہ بڑے بڑے افسروں کو بھی اس کی اطلاع نہ ہوئی۔ابوسفیان جو عربوں کا سردار تھا اُس کو بھی انہوں نے نہ بتایا۔ساتھ ہی ان کے دلوں میں یہ خیال بھی پیدا ہو گیا کہ مسلمانوں نے آج ہم پر شب خون مارنا ہے۔چنانچہ راتوں رات انہوں نے خیمے اکھیڑے اور بھاگنا شروع کر دیا۔ابوسفیان رات کو اُٹھا تو وہ حیران ہو کر کہنے لگا کہ خیمے کہاں گئے؟ کسی نے کہا کہ سارے قبیلے بھاگے جا رہے ہیں۔کہنے لگا عجیب بات ہے مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔اس کے بعد وہ خود بھی بھاگ کھڑا ہوا۔مگر اس قدر گھبرایا ہوا تھا کہ اونٹنی پر سوار ہو کر سے ایڑیاں مارنے لگ گیا حالانکہ وہ بندھی ہوئی تھی اور دم کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا۔آخر کسی نے کہا کہ کیا کر رہے ہو؟ اونٹنی تو ابھی بندھی ہوئی ہے اور تم دم کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہو۔3 جب صبح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو آواز دی اور فرمایا کوئی ہے؟ حذیفہ ایک صحابی تھے وہ کہتے ہیں میں بول پڑا اور میں نے کہا یا رَسُول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔مگر اُس رات اتنی سخت سردی پڑی تھی کہ صحابہ کہتے ہیں ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز تو سن رہے تھے مگر ہمارے اندر بولنے کی طاقت نہیں تھی۔کیونکہ ہماری ہڈیاں اُس وقت برف کی بنی ہوئی تھیں۔پھر دوبارہ