خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 80

1956ء 80 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس بوڑھے نے کہا تم ہنسے کیوں ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ بُت ابھی کل مستری بنا کر لایا ہے اور پھر یہ نہ بولتا ہے نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ تمہاری عمر 80 سال کے قریب پہنچ چکی ہے اور تمہارے بال سب سفید ہو چکے ہیں ، تم اس بت کے آگے سجدہ کرو گے تو کیا یہ ہنسی والی بات نہیں ہو گی؟ اُس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اُس بُت کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن بہائیوں کے بزرگوں کو دیکھ لو عباس امریکہ سے آیا تو اس نے سب سے پہلے بہاء اللہ کی قبر پر نماز پڑھی اور اسے سجدہ کیا۔ کیا ایسا مذہب اسلام کے آگے ٹھہر سکتا ہے جس نے عرب سے شرک کو گلی طور پر مٹا دیا اور اس کا ایسا نہیں نہیں کیا کہ دشمن بھی اس کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے عظیم الشان مذہب کے متعلق بہائیوں کا یہ کہنا کہ اسلام فیل ہو گیا ہے کتنے تعجب کی بات ہے۔ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: نماز کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔ (1) غلام جنت صاحبہ علی پور ملتان کے بیٹے حکیم عزیز الدین صاحب لکھتے ہیں کہ میری والدہ مجھے خواب میں ملیں تو انہوں نے کہا کہ تم نے حضرت صاحب سے میرا جنازہ کیوں نہیں پڑھوایا؟ اس لیے ایک تو ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ (2) چودھری کھیڑے خاں نمبر دار ریاست جموں حال موضع بھلور ضلع سیالکوٹ فوت ہو گئے ہیں۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ (3) ملک امام الدین صاحب سمبڑیال ضلع سیالکوٹ 25 جنوری کو کراچی میں فوت ہو گئے ہیں۔ 27 جنوری کو ان کا جنازہ یہاں لایا گیا لیکن زیادہ دیر ہو جانے کی وجہ سے میں نماز جنازہ نہ پڑھا سکا۔ یہ بہت مخلص تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی بھی تھے۔ (4) مولوی عبدالرحمان صاحب جٹ امیر جماعت احمد یہ قادیان اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی خوشدامن صاحبہ فوت ہو گئی ہیں۔ بریلی میں دو تین گھر ہی احمدی ہیں اس لیے نماز جنازہ کا مسودہ میں یہاں پر نام واضح نہیں۔