خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 72

$1956 72 خطبات محمود جلد نمبر 37 بہاء اللہ نے ساری دنیا میں ایک زبان جاری کرنے کی تحریک کی تھی حالانکہ یہ بات بالکل غلطی ہو ہے۔ایک زبان کے رواج کا خیال بہاء اللہ سے پہلے ہی موجود تھا اور اسی خیال سے متاثر کر بہاء اللہ نے اسے اپنی کتابوں میں شامل کر لیا مگر اب پاکستان کے دستور کو دیکھو تو اس میں بنگالی اور اردو دونوں کو سرکاری زبانیں قرار دے دیا گیا ہے۔پھر یہ بہائیت کا نچوڑ کیسے ہو گیا۔بہائیت تو یہ کہتی ہے کہ ساری دنیا میں ایک ہی زبان ہونی چاہیے یہاں صرف پاکستان کے ملک میں دوسرکاری زبانیں قرار دے دی گئی ہیں۔اب جس دستور میں دو زبانیں سرکاری قرار دے دی گئی ہوں وہ بہائیت کی تعلیم کا نچوڑ کیسے ہوا۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جو بہائیت کی تعلیم کے خلاف ہیں۔پس اسلام فیل کہاں ہوا ؟ ہم تو بہائیوں سے آج تک یہ پوچھتے رہے ہیں کہ وہ بتائیں کہ اسلام کہاں فیل ہوا ہے مگر وہ اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔1924ء میں جب میں انگلستان گیا تو وہاں میرے پاس ایک امریکن بنکر آیا جو بہائی تھا۔اُس کے ساتھ اُس کی بیوی کے علاوہ دو عورتیں اور بھی تھیں جن میں سے ایک انگریز تھی اور دوسری ایرانی۔انگریز بہائی عورت بہت متعصب تھی۔اُس نے مجھے کہا کہ آپ بہائی کیوں نہیں ہو جاتے؟ میں نے اسے جواب دیا کہ جب کوئی انسان کسی خاص منزل پر پہنچ جاتا ہے تو ی اُس کے لیے اُس منزل سے آگے جانے کے لیے کوئی وجہ ہونی چاہیے۔میں نے قرآن کریم کا ای بغور مطالعہ کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ سچا ہے۔اور جب مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ قرآن کریم سچا ہے اور قیامت تک اس کی تعلیم جاری رہے گی تو مجھے اسے چھوڑ کر کسی اور طرف جانے کی کیا ضرورت ہے۔وہ کہنے لگی جب پہلی تمام تعلیمیں بدل چکی ہیں تو قرآن کریم کیوں نہیں بدل سکتا؟ میں نے اُسے کہا کہ محض اس خیال سے کہ پہلی تعلیمیں بدل چکی ہیں قرآن کریم کے متعلق بھی یہ بات مان لینا کہ وہ بدل سکتا ہے درست نہیں۔ہمیں کی بحث کرنی چاہیے۔اس کے بعد اگر ہم کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں تو اُس پر عمل کرنا چاہیے۔آپ اسلام کی پندرہ ہیں باتیں مجھے ایسی بتا دیں جن پر اب عمل کرنا ناممکن ہو ؟ بہائیت کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم میں سے پندرہ میں باتیں ایسی پیش کریں جو قرآن کریم میں موجود نہ ہوں۔اگر آپ ایسا کریں تو میں بہائیت کی تعلیم کو مان لوں گا ورنہ اسے چھوڑ کر کسی اور تعلیم حقیق