خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 595

خطبات محمود جلد نمبر 37 595 $1956 تیری طبیعت ہی ایسی بنائی ہے کہ سب مسلمان تیرے ارد گرد جمع ہو گئے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ - 3 یہ لوگ تجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے۔گویا خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ نظام میں قائم کیا کرتا ہوں۔پس اگر کسی جماعت کے ساتھ نظام ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کے ساتھ ہے۔پس یہ عجیب بات ہے جو اس پیغامی نے لکھی کہ مبائعین اس لیے جیتے ہیں کہ اُن کے پاس نظام ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہا جائے کہ یہ لوگ اس لیے جیتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا ہے۔کوئی ان نادانوں سے پوچھے کہ بیوقوفو! اگر ان کے ساتھ خدا ہے تو کیا پھر بھی تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ تم اُدھر جاؤ جدھر خدا ہے۔تم سے زیادہ عقلمند تو میاں نظام الدین صاحب تھے۔میاں نظام الدین صاحب ایک صحابی تھے۔ان کو حج کا بڑا شوق تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی حج کیے تھے۔ایک دفعہ وہ حج سے واپس آئے تو لوگوں نے اُن سے کہا کہ تمہارا دوست تو پاگل ہو گیا ہے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی بیعت لینی شروع کی تھی اور میاں نظام الدین صاحب آپ کے پرانے دوستوں میں سے تھے۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے کہ کیا ہوا؟ انہوں نے کہا تمہارا دوست مرزا غلام احمد عليه الصلاة والسلام) لکھتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن کریم اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور مرزا صاحب تو بڑے نیک آدمی ہیں۔وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اگر فی الواقع انہوں نے ایسا کہا ہے تو تم گھبراؤ نہیں۔میں اس کے پاس جاؤں گا اور قرآن کریم اس کے سامنے رکھ دوں گا۔پھر وہ مان جائے گا۔وہ قرآن مانتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اسے اس بارہ میں غلطی لگی ہے مگر وہ قرآن کو چھوڑ نہیں سکتا۔وہ قرآن کو ضرور مانے گا۔چنانچہ وہ قادیان آئے اور حضرت صاحب کو ملے اور کہنے لگے حضور! میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا ہاں۔میں نے ایسا کہا ہے۔میاں نظام الدین صاحب نے کہا کیا آپ قرآن کریم کے خلاف کہتے ہیں؟