خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 583

1956ء 583 خطبات محمود جلد نمبر 37 چنانچہ اُن کے کہنے پر اس نے اس میراثی کی بانہہ پکڑ لی۔ اس پر ہمارے دادا صاحب کہنے وو لگے ہماری پنجابی زبان میں ایک مثال ہے کہ بانہہ پھڑے دی لاج رکھنا“۔ کمشنر پھر حیران ہوا اور کہنے لگا مرزا صاحب! اس کا کیا مطلب ہے؟ اس پر دادا صاحب نے کہا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب آپ نے ایک شخص کا بازو پکڑا ہے تو پھر اس بازو پکڑنے کی لاج بھی رکھنا اور اسے چھوڑنا نہیں۔ وہ کہنے لگا مرزا صاحب! آپ یہ بتائیں کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا اس کی پچیس ایکڑ زمین تھی جو اسے اس کے کسی حجمان نے دی تھی اور حکومت نے اسے ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہمارے مغل بادشاہ جب دربار لگایا کرتے تھے تو اُس موقع پر ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں کو بطور انعام دیا کرتے تھے لیکن یہ غریب حیران ہے کہ اس کے پاس جو پچیس ایکڑ زمین تھی وہ ضبط کر لی گئی ہے۔ کمشنر پر اِس بات کا ایسا اثر ہوا اور اُس نے اُسی وقت اپنے منشی کو بلایا اور کہا یہ بات نوٹ کر لو اور حکم دے دو کہ اس شخص کی زمین ضبط نہ کی جائے۔ اب دیکھو دنیا میں جب ایک انسان بھی بانہہ پھڑے دی لاج رکھتا ہے تو خدا تعالی بانہہ پھڑے دی لاج کیوں نہیں رکھے گا ؟ جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اُسے کبھی نہیں چھوڑتا۔ پس دعائیں کرو اور اس گر پر قائم رہو۔ جو شخص اس گھر پر عمل کرتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ ہمیشہ اپنے دشمن پر غالب رہتا ہے۔ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: باہر ایک جنازہ پڑا ہے۔ یہ جنازہ سیالکوٹ سے آیا ہے۔ چند دن ہوئے وہاں ایک خطرناک حادثہ ہوا اور جس خاندان میں یہ حادثہ ہوا وہ احمدیت کے قبول کرنے کے لحاظ سے ضلع سیالکوٹ میں اول نمبر پر تھا یعنی میر حامد شاہ صاحب مرحوم کا خاندان۔ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو اُس وقت بھی اسی خاندان میں ہی ٹھہرے تھے۔ سید ناصر شاہ صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے صحابہ میں سے تھے ان کے ایک لڑکے کی وہاں شادی تھی۔ ہمارے ملک میں رواج ہے کہ عورتیں دولہا کو اندر بلا لیتی ہیں اور اسے تحفے وغیرہ دیتی ہیں۔ چنانچہ اسی دستور کے مطابق عورتوں نے دولہا کو مکان کی دوسری منزل پر بلایا۔ ابھی عورتیں دولہا کو تحائف ہی دے