خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 582

$1956 582 خطبات محمود جلد نمبر 37 لیٹ جائے تو وہ اُس پر حملہ نہیں کرتا۔بلکہ چپکے سے پاس سے گزر جاتا ہے۔اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جائے اور اُس کے آستانہ پر گر پڑے تو وہ بھی اس کو مرنے نہیں دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی ذلت میری ذلت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔میاں بدر محی الدین صاحب جو بٹالہ کے رہنے والے تھے اُن کے والد جن کا نام غالباً پیر غلام محی الدین تھا ہمارے دادا کے بڑے دوست تھے۔اُس زمانہ میں لاہور کی بجائے امرتسر میں کمشنری تھی اور کمشنر موجودہ زمانہ کے گورنر کی طرح سمجھا جاتا تھا اور امرتسر میں اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔جس میں علاقہ کے تمام بڑے بڑے رؤساء شامل ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ امرتسر میں دربار لگا تو ہمارے دادا کو بھی دعوت آئی اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ پیر غلام محی الدین صاحب بھی اس دربار میں شامل ہوں گے اس لیے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بٹالہ میں ان کے مکان پر پہنچے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی پیر غلام محی الدین صاحب کے پاس کھڑا ہے اور وہ اس سے کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔جب انہوں نے دادا صاحب کو دیکھا تو کہنے لگے مرزا صاحب! دیکھیے یہ میراثی کیسا بیوقوف ہے۔کمشنر صاحب کا دربار منعقد ہو رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہاں جا کر کمشنر صاحب سے کہا جائے کہ گورنمنٹ نے اس کی پچپیس ایکڑ زمین ضبط کر لی ہے۔یہ زمین اسے واپس دے دی جائے۔بھلا یہ کوئی بات ہے کہ دربار کا موقع ہو اور کمشنر صاحب تشریف لائے ہوئے ہوں اور ایک میراثی کو اُن کے سامنے پیش کیا جائے اور سفارش کی جائے کہ اس کی چھپیس ایکڑ زمین جو اسے اس کے کسی جمان نے دی تھی ضبط ہو گئی ہے اسے واپس دی جائے۔چونکہ وہ پیر تھے گو درباری بھی تھے اس لیے انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔دادا صاحب نے اُس میراثی سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو۔چنانچہ وہ اسے ساتھ لے کر امرتسر پہنچے۔جب کمشنر صاحب دربار میں آئے تو درباریوں کا اُن سے تعارف کرایا جانے لگا۔جب دادا صاحب کی باری آئی تو انہوں نے کمشنر صاحب سے کہا کہ ذرا اس میراثی کی بانہہ پکڑ لیں۔وہ کہنے لگا مرزا صاحب! اس کا کیا مطلب؟ انہوں نے کہا آپ اس کی بانہہ پکڑ لیں میں اس کا مطلب بعد میں بتاؤں گا۔