خطبات محمود (جلد 37) — Page 577
$1956 577 خطبات محمود جلد نمبر 37 پورا زور لگانے کے وہ واپس نہیں مڑتی تھیں یہ نمونہ دکھایا کہ جونہی اُس کے کان میں یہ آواز پڑی کہ خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو وہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو خالی چھوڑ کر یا ان کی گردنیں کاٹ کر پیدل اس آواز کی طرف بھاگ پڑے اور آنا فانا آپ کے گرد جمع ہو گئے۔اور پھر وہ اس یقین کے ساتھ وہاں جمع ہوئے کہ اگر خدا تعالیٰ کا رسول ہمیں بلاتا ہے نہ خدا تعالیٰ بھی وہیں ہو گا۔چنانچہ انہوں نے زمین سے لبیک لبیک کہا اور آسمان سے خدا تعالیٰ نے کہا میں تمہاری مدد کے لیے آ گیا ہوں۔جب دونوں چیزیں جمع ہو گئیں تو دشمن ڈر گیا۔خدا تعالیٰ کے فرشتے مدد کے لیے اُترنے شروع ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں شکست مبدل بفتح ہو گئی غرض یہ ایک عظیم الشان گر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے لیکن مسلمان بدقسمتی سے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ ضلع کا پٹی کمشنر اُس پر مہربان ہے تو وہ اُس کی دہلیز گھسا دیتا ہے لیکن خدا تعالیٰ اسے اپنی طرف بلاتا ہے تو وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ ادھر ادھر جاتا ہے۔کبھی کہتا ہے فلاں کے پاس میری سفارش کر دو، کبھی کہتا ہے فلاں کے پاس میری امداد کے لیے درخواست کر دو حالانکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ مجھے جو بھی پکارتا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔میں اس کی پکار کو سنتا ہوں اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔اگر چہ یہ پکار کسی مقرب کی نہیں ہوتی بلکہ ایک مضطرب کی ہوتی ہے یعنی ایسے شخص کی پکار ہوتی ہے جو گھبرا جاتا ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ 7 کہ جو شخص مضطر ہوتا ہے اور وہ گھبرا کر پکارتا ہے تو کون اسے جواب دیتا ہے۔حالانکہ خدا اسے نظر نہیں آ رہا ہوتا اور وہ مبہم طور پر پکار رہا ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ پھر بھی خیال کر لیتا ہے کہ وہ اسے پکار رہا ہے اور وہ فرضی بات کو حقیقی سمجھ لیتا ہے اور اس کی مدد کرنے لگ جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے پنے بندوں کی کامیابی کے لیے ایک بڑا رستہ کھول دیا ہے لیکن بدقسمتی سے مسلمان اس طرف توجہ نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔وہ غفلت میں پڑے رہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ ان کے بالکل قریب ہے اور ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔وہ خود کہتا۔سے