خطبات محمود (جلد 37) — Page 565
$1956 565 خطبات محمود جلد نمبر 37 کے ایک دوست ان سے ملنے کے لیے گئے تو وہ ان سے کہنے لگے میرے لیے بیوی تلاش کرو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص بغیر شادی کے فوت ہوتا ہے اُس کی عمر باطل جاتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ میری عمر بھی باطل چلی جائے۔اب دیکھو ان کی عمر ایک سو دس سال کی ہو گئی تھی لیکن ان کی خواہش تھی کہ کوئی عورت مل جائے اور وہ اس سے شادی کر لیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صحت اچھی تھی اور قوی مضبوط تھے۔اس لیے انہیں اپنے بڑھاپے کا خیال نہ آیا اور انہوں نے اس بات کی خواہش کی کہ ان کی کسی عورت سے شادی ہو جائے۔ہمارے زمانہ میں بھی بعض لوگ بڑی بڑی عمر والے اور حوصلہ والے ہوتے ہیں۔1917ء میں ایک آدمی گجرات سے آیا اور مجھے ملا۔اُس نے مجھے بتایا کہ وہ لاہور سے پیدل چل کر آیا ہے۔میں نے کہا آپ کی عمر تو پچاس ساٹھ سال کی لگتی ہے۔اس نے کہا پچاس ساٹھ سال کی نہیں میری عمر ایک سو اٹھارہ سال کی ہے اور میں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ابتدائی زمانہ دیکھا ہوا ہے۔میں دورا تیں رستہ میں ٹھہرا ہوں اور پیدل چل کر قادیان پہنچ گیا ہوں۔بعد میں سنا کہ وہ ایک سو چالیس سال کی عمر میں فوت ہوا۔پس اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ جنہیں اپنی صحت کی حفاظت کرنے کی توفیق دیتا ہے وہ بڑی بڑی عمر میں پاتے ہیں۔ہمارے مولوی نور الحق صاحب کے دادا بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی جن دنوں فالج کے حملہ سے بیمار تھے اُسی سال خدام الاحمدیہ کا دفتر بن رہا تھا۔میں وہ دفتر دیکھنے جا رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بڑا تیز تیز چل کر میری طرف آ رہا ہے۔وہ مجھے ملا اور اس نے مجھ سے مصافحہ کیا۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے مجھے اپنا نام بتایا اور کہا میں گجرات سے آیا ہوں۔پھر انہوں نے پنجابی زبان میں کہا جیہڑا غلام رسول وزیر آبادی کہلا نداں ہے میں اسدا حال کچھن آیا ہاں۔یعنی غلام رسول وزیر آبادی جو کہلاتے ہیں اُن کا حال دریافت کرنے آیا ہوں۔حافظ غلام رسول صاحب ہماری جماعت میں بڑے محترم سمجھے جاتے تھے مگر انہوں نے اس بے تکلفی سے ان کا نام لیا تو میں نے پوچھا کہ حافظ صاحب سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ میرے بھتیجے ہیں۔