خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 564

خطبات محمود جلد نمبر 37 564 $1956 پچھلے سال جب میں یورپ سے علاج کے بعد واپس آیا تو اُن دنوں میری طبیعت میں تشویش زیادہ ہوتی تھی لیکن میں نے دیکھا کہ جوں جوں احباب میری صحت کے لیے دعائیں کرتے تھے وہ تشویش کم ہوتی جاتی تھی اور صحت میں ترقی ہوتی جاتی تھی۔اب خدا تعالی کی کے فضل سے ایک سال اور گزر گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جتنی تشویش اور گھبراہٹ مجھے پچھلے سال تھی اتنی اب نہیں۔لیکن اس سال چونکہ سردی اچانک تیز ہو گئی ہے اس لیے میری ہی طبیعت میں بھی کوفت اور اضمحلال پیدا ہو گیا ہے اور میں طاقت کی بجائے کمزوری محسوس کرتا ہوں۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ ایک بار پھر دعاؤں میں مشغول ہو جائیں کیونکہ اگر انہیں واقع میں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سلسلہ اور اسلام کی خدمت کروائی ہے اور میرے ذریعہ انہیں ترقی بخشی ہے تو یہ کام اسی صورت میں جاری رہ سکتا ہے کہ میری صحت ٹھیک رہے۔پس اگر واقع میں انہیں یہ احساس اور یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ احمدیت اور اسلام کو ترقی دی ہے تو ان کی اسلام اور احمدیت سے محبت کا ثبوت اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ وہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسی صحت بخشے کہ میں اچھی طرح کام کر سکوں اور اسلام اور احمدیت کی اور زیادہ خدمت کر سکوں تا کہ وہ جلد جلد ترقی کرے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی کاموں میں دور آتے رہتے ہیں جن سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔لیکن عام قاعدہ اور ہے اور کوشش اور چیز ہے۔عام قاعدہ کے مطابق انسان بڑی عمر میں کمزور ہو جاتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں وہ بڑی لمبی عمر پا جاتے ہیں اور انہیں دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ انسانی تدبیر سے جس میں سب سے بڑی چیز دعا ہے عام قانون بدلا جا سکتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بن ربیعہ ایک مشہور شاعر تھے۔انہوں نے ایک سو پچھتر سال عمر پائی 1۔اسلام لانے سے پہلے بھی وہ عرب کے مشہور شاعر تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی وہ کافی عرصہ زندہ رہے۔حضرت انس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے انہوں نے ایک سو دس سال کی عمر یائی۔اور ان کی ہمت اتنی بلند تھی کہ بڑی عمر میں ان کی بیوی فوت ہو گئی تھیں۔ایک دن ان کی