خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 560

خطبات محمود جلد نمبر 37 560 $1956 بات ہے بلکہ بیر بیچنے میں تو پھر بھی کچھ مزہ ہے لیکن پیغام صلح میں ایک یا دوسطر لکھ دینے میں کیا مزہ ہے۔ملا تو کچھ بھی نہیں۔اگر کچھ مل جاتا تب تو کچھ بات بھی تھی۔ملا خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کرتی ہے۔لاکھوں آدمی اپنی جائیدادوں اور مالوں کو اس کے لیے قربان کر رہے ہیں اور ایسے لوگ قربان کرتے ہیں جن کی مالی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔اگر ظاہری طور پر دیکھا جائے تو ہمارا حق ہے کہ ان کی خدمت کریں لیکن وہ اسلام کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو آگے لاتے ہیں اور اگر ہم ان سے کہ دیں کہ تم غریب ہو اس لیے چندہ نہ دو تو وہ رو پڑتے ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض صحابہ آئے اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہمارے لیے بھی رومی جنگ پر جانے کے لیے کچھ سامان مہیا کیجیے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کچھ نہیں۔اس پر وہ روتے ہوئے واپس چلے گئے۔6 بعد میں انہی لوگوں میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ خدا کی قسم ! ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں گئے تھے کہ ہمیں اونٹ دیں کہ ہم اُن پر سوار ہو کر جائیں۔ہماری غرض یہ تھی کہ ہمارے پاؤں ننگے تھے، رستہ میں کانٹوں اور پتھروں پر سے گزرنا پڑتا تھا۔ہمیں کوئی چپلی ہی دے دی جائے کہ اُسے پہن کر شام کی طرف رومی لشکر سے لڑنے کے لیے چل پڑیں۔اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چپلی نہ دے کر بظاہر انہیں مرنے سے بچایا تھا مگر وہ اس پر بھی رو پڑے کہ انہیں ثواب سے محروم کر دیا گیا ہے۔یہی حال ہماری جماعت کے لوگوں کا ہے کہ غریب ہوتے ہیں، گھر میں فاقہ ہوتا ہے مگر پھر بھی آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سے اتنا چندہ لے لیا جائے۔بعض اوقات عورتیں آ جاتی ہیں اور کہتی ہیں یہ چار انڈے ہیں انہیں بیچ کر جو کچھ ملے چندہ میں دے دیں۔اب انڈے بیچنے والوں کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ایک یا دو مُرغیاں انہوں نے رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ مرغیاں ایک دو انڈے دے دیتی ہیں اور وہ اُن انڈوں کو بھی چندہ میں دے دیتی ہیں۔اور اگر ہم اُن میں سے کسی عورت کے چندہ کو رڈ کر دیں تو وہ خوش نہیں ہوگی کہ اس سے چندہ نہیں لیا گیا بلکہ روئے گی کہ اسے ثواب سے محروم کیا گیا ہے اور خیال کرے گی کہ شاید مالدار کو ہی حق حاصل ہے کہ وہ چندہ دے غریب کو چندہ دینے کا حق نہیں۔