خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 526

$1956 526 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرایہ میں دے دوں گا۔وہ کہنے لگا میں تو اپنے کرایہ پر جاؤں گا۔وہاں تو خدا تعالیٰ کی باتیں ہوتی ہیں۔ان کے سننے کے لیے میں تمہارے کرایہ پر نہیں بلکہ اپنے کرایہ پر جاؤں گا۔غرض اللہ تعالیٰ اِس طرح دلوں کو ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے بعض لوگ پانچ پانچ سال جلسہ پر آتے رہے لیکن انہوں نے بیعت نہ کی۔بعد میں آئے تو بیعت کر لی۔اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے پہلے سال ہی بیعت کر لی۔مجھے یاد ہے منصوری کے ایک سید عبد الوحید صاحب بیعت کے لیے آئے۔ان کے بھائی سید عبد المجید صاحب پہلے سے احمدی تھے۔سیدعبدالوحید صاحب کا لڑکا فضل الرحمان فیضی بڑا مخلص احمدی ہے اور سندھ میں رہتا ہے۔وہ حضرت خلیفہ امسیح الاول کی وفات کے بعد پہلے جلسہ سالانہ پر آئے تھے۔بیعت کے لیے انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور رونے لگ گئے۔میں نے پوچھا کیا بات کی ہے؟ تو ان کے بھائی نے بتایا کہ یہ بڑے سخت مخالف تھے اور میرے ساتھ احمدیت کی وجہ سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔اس کے بعد ان میں ایسا تغیر پیدا ہوا کہ یہ احمدیت کی طرف مائل ہو گئے اور اب بیعت کر رہے ہیں۔اس تغیر کی وجہ یہ ہوئی کہ کوئی مولوی صاحب تھے جن کی یہ بہت مدد کیا کرتے تھے اور اُن پر بہت اعتقاد رکھتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ یہ فتوی دیا کہ سپرٹ جو جلانے کے کام آتی ہے یہ بھی شراب ہے اور اس کا بیچنا کفر ہے۔بعد میں ایک مقدمہ میں وہی مولوی صاحب بطور گواہ پیش ہوئے تو انہوں نے کہا سپرٹ تو جلانے کے کام آتی ہے اس کا شراب سے کیا تعلق ہے۔اس سے یہ بدظن ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ مولوی لوگ پیسے لے کر بدل جاتے ہیں۔غرض وہ یہاں آئے اور احمدی ہو گئے۔پھر جب تک زندہ رہے احمدیت میں بڑے اخلاص سے زندگی گزاری۔اب ان کی اولا د بھی بڑی مخلص ہے۔پس آپ لوگوں کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دوستوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ تعداد میں جلسہ پر آئیں اور پہلے سے کئی گنا زیادہ اخلاص لے کر جائیں۔اور پھر وہ خود بھی اور اُن کی بیویاں بھی اور اُن کے بچے بھی ایسا ایمان اپنے اندر پیدا کریں جو