خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 516

$1956 516 خطبات محمود جلد نمبر 37 جمع بغیر خرچ کے ہو جاتے ہیں۔پس پہلے تو میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کا چندہ جم کرنے میں دوست ہمت سے کام لیں تا کہ جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے لیے پہلے سے انتظام کیا جا سکے۔اصل میں تو چندہ جلسہ سالانہ سال کے شروع میں ہی دے دینا چاہیے کیونکہ اگر اجناس وقت پر خریدی جائیں تو ان پر بہت کم خرچ آتا ہے۔اگر روپیہ پاس ہو اور مئی جون با جولائی میں تمام اجناس خرید لی جائیں تو آدھے روپیہ میں کام بن جاتا ہے۔اگر گندم وقت پر خرید لی جائے تو اس کی قیمت موجودہ قیمت سے قریباً آدھی ہوتی ہے۔پھر اس وقت زمیندار کا حوصلہ بھی بڑھا ہوا ہوتا ہے۔اگر گندم بازار میں دس روپے فی من بکتی ہو تو وہ جلسہ سالانہ کے لیے آٹھ روپے فی من کے حساب سے دے دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یوں بھی اس نے کمیوں کو گندم دینی تھی۔چلو سلسلہ کی بھی مدد کر دی تو کیا حرج ہے۔آٹھ روپے ہم ان سے لے لیتے ہی ہیں اور باقی روپیہ دو روپیہ چھوڑ دیتے ہیں۔اسی طرح دالوں وغیرہ میں بھی بہت فرق پڑ جاتا ہے۔گندم کا نرخ پچھلے دنوں ربوہ میں سولہ سترہ روپے فی من ہو گیا تھا لیکن شروع میں آٹھ روپے فی من بھی مل جاتی تھی۔گورنمنٹ کی طرف سے اگر چہ دس روپے فی من نرخ مقرر تھا تو لیکن زمیندار سلسلہ کی ضرورتوں کے لیے قربانی کر جاتا ہے وہ آٹھ روپے فی من کے حساب وہ سے بھی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔بشرطیکہ قانون اجازت دیتا ہو۔دالوں پر بھی اگر وقت پر نہ خریدی جائیں تو قریباً تین گنا خرچ آ جاتا ہے۔اسی طرح دوسری ضروریات ہیں مثلاً لکڑی ہے۔اگر وقت پر لکڑی لے لی جائے تو اس میں بھی بہت سا فرق پڑ جاتا ہے۔کسیر مفت کی چیز ہے۔جن دنوں بارش ہوتی ہے کسیر کثرت سے پیدا ہوتی ہے۔اگر اُن دنوں اس کا انتظام کر لیا جائے یا چاول کے دنوں میں پرالی لے لی جائے تو یہ چیز میں مفت میں مل جاتی ہیں اور اگر کچھ خرچ آئے تو وہ نہایت معمولی ہوتا ہے۔زمیندار سمجھتا ہے کہ ہم نے بھی تو کسیر جلانی ہی تھی۔اگر ان کو دے دی تو کیا حرج ہے۔صرف یہاں تک لانے میں گڑے کا خرچ پڑتا ہے ورنہ دوسرے دنوں میں کسیر اور پرالی کے جمع کرنے پر بھی بہت خرچ ہو جاتا ہے۔غرض وقت پر روپیہ جمع ہو جائے تو کئی چیزیں مفت مل جاتی ہیں، بعض چیزیں نصف قیمت پر مل