خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 504

$1956 504 خطبات محمود جلد نمبر 37 کھا لیا ہے اور تم نے اُسے اتنا دکھ دیا کہ اس نے مجبور ہو کر مرتے وقت وصیت کی کہ فلاں فلاں شخص میرے جنازے کو ہاتھ نہ لگائے۔پس تمہاری تو یہ حالت ہے کہ تم نے اپنے محسن اور جماعت کے بانی مولوی محمد علی صاحب کو بھی دُکھ دیا اور انہیں مرتد قرار دیا۔تم نے خواجہ کمال الدین صاحب کی بھی مخالفت کی اور انہیں مرتد قرار دیا۔اور اب مولوی صدر الدین صاحب، مولوی عبدالمنان، مولوی عبدالوہاب اور ان کے ساتھیوں کی بھی کسی دن باری آ جائے گی اور تھوڑے دنوں میں ہی تم دیکھ لو گے کہ انہیں بھی مرتد قرار دیا جا رہا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی باری پہلے آ گئی تھی اور ان کی باری بعد میں آئے گی۔بہر حال اس مضمون نے بتا دیا کہ یہ لوگ جب کہتے تھے کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں تو جھوٹ بولتے تھے کیونکہ اگر ان کا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں تھا تو اب انہوں نے اپنا نظام اور اپنا روپیہ اور اپنا اسٹیج ان لوگوں کے لیے کیوں وقف کرنے کا اعلان کیا ہے؟ یہ بات بتاتی ہے کہ پہلے جھوٹ بول کر انہوں نے اپنے فعل پر پردہ ڈالنا چاہا مگر آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پردہ کو چاک کر دیا اور بتا دیا کہ ان کے اندرونی عزائم کیا ہیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قد بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ اَكْبَرُ - 4- ان کا غصہ ان کے مونہوں سے نکل آیا ہے۔لیکن جو غصہ ان کے دلوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔مگر اس کے علاوہ ان کا یہ مضمون میری سچائی کی بھی ایک واضح دلیل ہے کیونکہ تھوڑے ہی دن ہوئے میں اس کے متعلق ایک رؤیا الفضل میں شائع کروا چکا ہوں جو ان کے اس اعلان سے لفظاً لفظاً پورا ہو گیا ہے۔انہوں نے اپنے مضمون میں مجھے یہ طعنہ بھی دیا ہے کہ میں اپنے رویا وکشوف اور الہامات کو وحی نبوت کا درجہ دے رہا ہوں حالانکہ یہ بالکل غلط اگر کسی رؤیا کے پورا ہونے پر انہیں کوئی اعتراض ہو تو ان کا حق ہے کہ وہ اُسے پیش کریں۔لیکن اگر کوئی رؤیا پورا ہو جائے تو اُس کے متعلق یہ کہنا کہ اسے وحی نبوت کا مقام دیا جا رہا ہے اُس بُزدل فوجی کی سی حماقت ہے جو بھاگا جا رہا تھا اور زخم پر ہاتھ لگا کر کہتا جاتا تھا ہے۔