خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 481

$1956 481 خطبات محمود جلد نمبر 37 وقت تک اس آیت پر پوری طرح عمل نہیں ہو سکتا۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم سب سے بہتر قوم ہو جسے ساری دنیا کے لیے نکالا گیا ہے۔مگر پھر یہ بھی بتایا کہ تمہیں کس کام کے لیے نکالا گیا ہے۔وہ کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا کو نیک کاموں کی تعلیم دیتے ہو اور ساری دنیا کو بُرائی سے روکتے ہو۔اور ساری دنیا کو نیکی کی تعلیم دینا اور ساری دنیا کو برائی سے روکنا تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب جماعت میں تنظیم ہو اور اس تنظیم کے ماتحت وہ ساری دنیا میں اپنے مبلغ بھیجتی رہے۔پرانے زمانہ میں اسلام میں یہ طریق تھا کہ لوگ آپ ہی آپ دوسرے ممالک میں چلے جاتے تھے اور اشاعتِ اسلام کا کام کرتے تھے۔اُس زمانہ میں بادبانی جہاز ہوتے تھے اور لوگ معمولی کرایہ خرچ کر کے فلپائن، انڈونیشیا، ملایا اور ہندوستان پہنچ جاتے تھے۔لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور سفر پر بڑے بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔پھر پہلے زمانہ میں لوگ اپنے مکانات کو آباد کرنے کے لیے بھی آدمی ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ کوئی مناسب آدمی مل جائے تو اُسے اپنا ایک مکان جو مثلاً دو کمروں پر مشتمل ہو دے دیں تا کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ بعض ممالک میں ایک غسل خانہ بھی کرایہ پر لیا جائے تو اُس کا ڈیڑھ دوسو روپیہ ماہوار کرایہ دینا پڑتا ہے۔اس لیے اب ہر ایک شخص میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اُس حکم کمل کر سکے۔پرانے زمانہ میں ہر آدمی اس قابل تھا کہ وہ انڈونیشیا، ملایا، چین یا جاپان چلا جائے کیونکہ سفر پر اخراجات بہت کم ہوتے تھے اور پھر چونکہ سفر بھی کم ہوتا تھا اس لیے جب سیاح آتے تو لوگ شوق سے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہراتے تھے اور اُن کی خاطر مدارات کرتے تھے۔انڈونیشیا میں کسی زمانہ میں عملاً عربوں کی حکومت تھی کیونکہ لوگ انہیں شوق - اپنے گھروں میں لے جاتے اور انہیں استاد اور پیر سمجھتے اور ان کی خاطر مدارات کرتے۔لیکن اب انہیں عربوں سے نفرت ہو گئی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں استاد اور پیر کہلانے کی عادت ہو گئی ہے۔حالانکہ انہی کے سلوک اور خاطر مدارات کی وجہ سے انہیں استاد اور پیر کہلانے کی عادت پیدا ہو گئی تھی۔اسی طرح اس علاقہ میں پہلے طبیب نہیں تھے۔ہندوستان راول 2 وہاں جاتے اور پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار کماتے تھے لیکن اب یہ حالت ہے