خطبات محمود (جلد 37) — Page 454
$1956 454 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوں گے کہ ہم کوئی معمولی بات نہیں کہتے بلکہ ہم ضرور ایک قوم لا کر چھوڑیں گے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان علماء کے نزدیک پانچ لاکھ احمدی مسلمانوں میں سے مرتد ہو گیا مگر ان کے پاس اللہ تعالیٰ کوئی قوم نہ لایا بلکہ ایک کے بدلہ میں ایک آدمی بھی انہیں نہ ملا اور پانچ لاکھ عیسائی یا ہندو بھی ان میں شامل نہ ہوا۔حالانکہ اگر واقع میں پانچ لاکھ مسلمان احمدی ہو کر مرتد ہو گیا تھا تو اللہ تعالی کم از کم پچاس لاکھ مسلمان اور لے آتا۔بلکہ اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ کسی زمانہ میں ایک ایک مسلمان دو دو ہزار آدمیوں پر بھی بھاری تھا تو ایک شخص کے الگ ہو جانے پر خدا تعالی دو ہزار لوگ اسلام میں داخل کر دیتا اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد و ارب کے قریب ہو جاتی۔اور ایک ایک ہندو اور بدھ کے مقابلہ میں دو دو مسلمان پیش کیے جا سکتے اور اس طرح دنیا کا نقشہ بدل جاتا۔بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر ایسا ہوتا تو یہی مولوی ہمارے سامنے ہاتھ جوڑتے اور کہتے کہ خدا کے لیے پانچ لاکھ اور احمدی بنا لو تا کہ ایک ارب اور مسلمان ہو جائیں۔اور اگر وہ آ جاتے تو وہ پانچ لاکھ اور احمدی بنا لینے کی درخواست کرتے تا کہ ایک ارب اور مسلمان ہو جاتے۔اور اگر موجودہ تعداد سے تین گنا احمدی ہوتے تو دنیا کے چپہ چپہ پر مسلمان پھیلے ہوئے ہوتے اور آج دنیا میں کوئی ہندو، عیسائی، بدھ ، شنٹو ازم کا پیرو اور کنفیوشس کا ماننے والا نظر نہ آتا۔سارے مذاہب ختم ہو جاتے۔غرض یہ آیت مسلمانوں لیے ایک بہت بڑی خوشخبری کی حامل ہے۔لیکن افسوس ہے کہ بعض علماء نے اسے انذار کی آیت سمجھ لیا حالانکہ یہ آیت مسلمانوں کی ترقی کا راستہ کھولتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں ارتداد کی صرف ایک مثال نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کے زمانہ میں آپ کا کاتب وحی مرتد ہو گیا لیکن اُس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ نے تھوڑے ہی دنوں میں سارے مکہ کو مسلمان کر دیا۔ہم بھی دیکھتے ہیں کہ جماعت میں سے ایک دو آدمی نکلتے ہیں تو خدا تعالیٰ معاً بعد ایک قوم لانی شروع کر دیتا ہے اور ہم بڑھتے چلے : جاتے ہیں۔اس وقت ہماری جماعت سے جو لوگ علیحدہ ہوئے ہیں اُن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ وہ سُخَطَةً لِدِينِه نہیں نکلے۔اس لیے ہم انہیں مرتد نہیں کہہ سکتے۔در حقیقت شخص تو مرتد ہوتا ہے اور ایک بمنزلہ مرتد ہوتا ہے۔اگر کوئی جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے تو