خطبات محمود (جلد 37) — Page 430
$1956 430 خطبات محمود جلد نمبر 37 ایسا نہیں ملے گا جس کا جواب قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔احادیث میں جو قرآن کریم کے متعلق آتا ہے يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا 8 اِس کا بھی یہی مطلب ہے کہ کوئی اعتراض قرآن کریم پیدا ہو خدا تعالیٰ اُس کا جواب وہیں آگے پیچھے بیان کر دیتا ہے۔پس قرآن کریم کو سمجھنے کا طریق یہی ہے کہ پہلے قرآن کریم کے دشمنوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھی جائیں۔لیکن انہیں ایمان کے ساتھ پڑھنا چاہیے بے ایمانی کے ساتھ نہیں تا کہ تم اُن کا شکار نہ ہو جاؤ۔اور پھر انہیں اس یقین کے ساتھ پڑھو کہ جو کچھ دشمنانِ اسلام نے لکھا ہے اُس کا جواب قرآن مجید میں موجود ہے۔جب تم اس طریق پر ان کتابوں کو اور پھر ان کے بعد قرآن کریم کو پڑھو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اُن لوگوں نے قدم قدم پر جھوٹ بولا ہے اور قرآن کے اندر ہدایت ہی ہدایت ہے۔اس طرح مومن کو اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے کسی اور سواری کی کی ضرورت نہیں رہتی ہدایت ہی اُس کا گھوڑا بن جاتی ہے اور وہ اس پر سوار ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچ جاتا ہے اور سیدھی بات ہے کہ جب ہدایت کسی کی سواری بن جائے تو اُسے کسی اور کی سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔مثلاً گھر کا مالک کسی کو خود ہی اپنے گھر لے جائے تو اُسے اُس گھر کا رستہ کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔اگر وہ کسی اور سے رستہ دریافت کرے تو گھر کا مالک ہنس پڑے گا اور کہے گا کہ میں تو خود تمہیں اپنے گھر لے جا رہا ہوں تمہیں کسی اور سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔پس علی ھدی کے یہی معنی ہیں کہ مومن ہدایت پر سوار ہو جاتا ہے اور ہدایت کو علم ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف ہی اُس نے جانا ہے۔جیسے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ کوئی دھوبی تھا۔اُس کی بیوی بڑی تیز مزاج تھی۔وہ روزانہ اُس سے لڑائی کیا کرتی تھی۔ایک دن وہ تنگ آ کر کہنے لگا کہ میں آئندہ اس گھر میں کبھی نہیں آؤں گا۔اگر میں گھر واپس آیا تو مجھے ایسا ایسا سمجھنا۔اس کے بیٹوں کا خیال تھا کہ اُن کی ماں کا قصور نہیں بلکہ خود اُن کا باپ جھگڑالو ہے۔وہ پہلے بھی کئی دفعہ روٹھا تھا اور لڑکے ہمیشہ اُسے منا لاتے تھے۔اس دفعہ بھی وہ روٹھ کر چلا گیا۔شام کو بیٹے گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ باپ کہاں ہے؟ اُس نے بتایا کہ وہ تو روٹھ کر چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا ماں تم چپ کر کے بیٹھی رہو باپ کو منا کر لانے کی