خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 429

1956ء 429 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرنے والے نے کس بناء پر اعتراض کیا ہے اور اس کی دلیل کیا دی ہے۔ پھر اس یقین کے ساتھ کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس میں ہر معقول اعتراض کا جواب موجود ہے وہ قرآن کریم پر غور کرے اُسے یقیناً اس اعتراض کا جواب مل جائے گا اور ایسا جواب ملے گا کہ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکے گا۔ مجھے یاد ہے جب تفسیر کبیر کی پہلی جلد جو سورۃ یونس سے کہف تک کی تفسیر پر مشتمل ہے لکھی جا رہی تھی تو سورۃ کہف کی آیت وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ عمدا 7 کے متعلق مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ اس کا پہلی آیات کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ میں نے یہ تفسیر 1922ء کے درس کے نوٹوں سے تیار کی تھی اور زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے میں یہ بھول چکا تھا کہ اس آیت کا پہلی آیات کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ایک دن میں عشا کے بعد تہجد کی نماز تک اس کے متعلق سوچتا رہا لیکن میں کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ آخر میں نے کہا اس وقت میں اسے چھوڑتا ہوں جب تفسیر لکھتے لکھتے یہ مقام آئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے خود ہی حل فرما دے گا۔ چنانچہ تفسیر لکھتے ہوئے جب میں اس آیت پر پہنچا تو فوراً یہ آیت حل ہو گئی اور پتا لگ گیا کہ اس آیت کا پہلی آیات کے مضمون کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ چنانچہ میں نے اس آیت کی وہاں تفسیر لکھ دی۔ اسی طرح چند دن ہوئے میں تفسیری نوٹ لکھوا رہا تھا کہ میری بیوی مجھ سے کہنے لگیں کہ میں ایک بات کہوں؟ میں نے کہا کہو۔ کہنے لگیں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ آپ نوٹ لکھوا رہے ہوتے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس آیت پر تو فلاں اعتراض پڑتا ہے لیکن تیسری یا چوتھی آیت کے بعد آپ خود ہی اُس اعتراض کا جواب لکھوا دیتے ہیں۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ میں نے تو وہ اعتراض آپ کو بتایا نہیں ہوتا پھر آپ کو اس کا پتا کیسے لگ گیا۔ میں نے کہا مجھے تو اس اعتراض کا پتا نہیں ہوتا لیکن خدا تعالیٰ کو تو اُس کا علم ہوتا ہے۔ اس لیے جب میں اُس مقام پر پہنچتا ہوں تو وہ اُس کا جواب میرے ذہن میں ڈال دیتا ہے تا کہ جس شخص کے دل میں بھی ایسا اعتراض پیدا ہو وہ اس سے فائدہ اُٹھا سکے۔ پس اگر کسی انسان کو قرآن کریم کی سچائی پر پورا یقین ہو تو اُسے کوئی اعتراض