خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 404

1956ء 404 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم مرزا صاحب سے جا کر پوچھو کہ کیا نور ملنے کی بھی کوئی تدبیر ہے؟ میں نے کہا یہ ہماری تو اصطلاح نہیں سکھوں کا ایک محاورہ ہے جو ان میں رائج ہے۔ مگر بہر حال ہم جس چیز کو ہدایت کہتے ہیں وہ اس کا نام نور رکھتے ہیں اور ہدایت ملنے کا راستہ میں بتانے کے لیے تیار ہوں ۔ مگر چونکہ اُس نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ بڑے مالدار ہیں اور کروڑ پتی ہیں اس لیے میں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ گو میں عیسائی نہیں مگر حضرت عیسی علیہ السلام کی بزرگی کا قائل ہوں اور آپ فرماتے ہیں کہ اونٹ کا سُوئی کے ناکہ میں سے گزر جانا آسان ہے لیکن دولتمند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔7 اب خواہ میں عیسائی نہیں مگر پھر بھی میرے مسلّمہ بزرگوں میں سے ایک بزرگ حضرت عیسی علیہ السلام کہہ چکے ہیں کہ دولتمند کو ہدایت ملنی ناممکن ہے۔ اس لیے گو میں تمہیں نور حاصل کرنے کا راستہ بتا دوں گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ نور کو قبول نہیں کریں گے۔ کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ نور مل بھی جائے اور پھر بھی انسان اس کو چھوڑ دے؟ میں نے کہا حضرت مسیح نے ایسا ہی کہا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے نور دیکھنے کے باوجود نور کو قبول کرنے کی کوشش نہیں کرنی۔ خیر باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے تو خود مسلمان بھی کافر کہتے ہیں۔ پھر تم میرے پاس کیوں آئے ہو؟ کہنے لگا میرا آقا کہتا تھا کہ ہم مسلمان پیروں کے پاس بھی گئے ہیں، ہندوؤں کے پاس بھی گئے ہیں اور سکھوں کے پاس بھی گئے ہیں مگر ہمیں کہیں نور نہیں ملا۔ اب چلو! ان کے پاس بھی جا کر دیکھ لیں۔ میں نے کہا میں نور دکھانے کا ذمہ دار ہوں۔ مگر مسیح کی بات پوری ہو کر ہنی ہے کہ تم نے اسے ماننا نہیں۔ کہنے لگا یہ تو عجیب بات ہے کہ نور مل بھی جائے اور پھر بھی انسان اسے قبول نہ کرے۔ میں نے کہا ایک خدا رسیدہ انسان نے ایسا کہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل درست ہے۔ اس نے کہا آپ ہمیں نور ملنے کا راستہ بتائیں وہ اسے ضرور قبول کریں گے۔ اس پر میں نے اسے یہی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ والی دعا لکھوا کر دے دی اور میں نے کہا کہ تم اس کے معنے پہلے اچھی طرح سمجھ لو۔ اس میں یہ نہیں لکھا کہ الہی ! میں مسلمان ہو جاؤں ۔ اگر یہ دعا سکھائی جاتی تو تم کہہ سکتے تھے کہ میں تو ہندو ہوں میں مسلمان ہونے کی دعا کس طرح