خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 398

1956ء 398 خطبات محمود جلد نمبر 37 گزرنے کا حق احسان کے طور پر ہے اور احسان کو ہمیشہ کے لیے جاری سمجھنا غلط بات ہے۔ اس لیے اگر اس کے کھیت میں سے کوئلہ کے سوا کوئی اور چیز گزرے گی تو ہم اسے روکیں گے۔ گویا قانون نے اپنی جائیداد کی حفاظت کے حق کو بڑا مقدم رکھا ہے اور شریعت نے بھی ہر شخص کو یہ حق دیا ہے۔ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا عائشہ ! تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا میں سوراخ میں سے اندر جھانکنے والے کی آنکھ نیزہ سے لو امور عامه نکال دیتا۔ گویا یہ اتنا یہ اتنا بڑا حق ہے کہ اسلام نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ اگر اس حق کو امور استعمال کرتا ہے تو اُسے حکومت در حکومت کس طرح کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہے اور دوسری طرف جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کیا جاتا ہے تو اُسے حکومت در حکومت کہا جاتا ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو رائج کرنا حکومت در حکومت ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اسلامی مملکت ہے۔ اس پر ہم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنے کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ (غیر مطبوعه مواد از خلافت لائبریری ربوه ) 1 : حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد 22 صفحه 5 کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن 2008ء 2 : البقرة : 24 3 : تذکره صفحه 26 ایڈیشن چهارم2004ء 4 : مبغوض : جس سے بغض یا کینہ رکھا جائے ، جس سے دشمنی کی جائے ، قابلِ نفرت ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 17 صفحہ 295 کراچی 2000ء) 5 : مٹ: شعبدہ باز - بازی گر ۔ بیچ قوم کا فرد ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 19 صفحہ 774 کراچی 2003ء) 6 : صحيح البخارى كتاب الاستئذان باب الاستئذانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ( مفهومًا) 7 : الفاتحة : 6 : مَبْرَز : پاخانہ نکلنے کی جگہ ۔ مقعد ( فیروزا وز اللغات اردو اردو جامع فیروز سنز لاہور )