خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 27

خطبات محمود جلد نمبر 37 اور اسلام کا جھنڈا ہر جگہ گاڑ دیا جائے ۔ 27 1956ء میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ دیکھو کہ اس وقت امریکہ میں جس مبلغ کے ذریعہ گوری قوم میں اسلام پھیلنا شروع ہوا ہے وہ صرف میٹرک پاس ہے۔ وہ گریجویٹ بھی نہیں، وہ شاہد بھی نہیں بلکہ وہ ایف۔ اے بھی نہیں ۔ وہ میٹرک پاس کر کے ہمارے پاس آ گیا، اُس نے دین کی خدمت کے لیے زندگی وقف کی۔ ہمیں اُس وقت ایسے آدمیوں کی ضرورت تھی جنہیں تبلیغ کے لیے باہر بھجوایا جائے۔ چنانچہ ہم نے اسے امریکہ بھیج دیا۔ اگر تم بھی اپنی زندگیوں کو سنوارو اور انہیں کھیل گود میں ضائع نہ کرو تو تم بھی اُس جیسا کام کر سکتے ہو بلکہ اس سے بڑھ کر کام کر سکتے ہو۔ آج ہی مجھ سے کسی نے ذکر کیا ہے کہ آج نصف ربوہ کرکٹ کا میچ دیکھنے لاہور گیا ہے۔ میں کھیلوں کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کو کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے تا اُن کی صحت اچھی رہے لیکن محض کھیلوں میں ساری زندگی گزار دینا درست نہیں ۔ ہم بھی بچپن میں مختلف کھیلیں کھیلا کرتے تھے۔ میں عموماً فٹبال کھیلا کرتا تھا۔ جب قادیان میں بعض ایسے لوگ آگئے جو کرکٹ کے کھلاڑی تھے تو انہوں نے ایک کرکٹ ٹیم تیار کی۔ ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جاؤ حضرت صاحب سے عرض کرو کہ وہ بھی کھیلنے کے لیے تشریف لائیں۔ چنانچہ میں اندر گیا۔ آپ اُس وقت ایک کتاب لکھ رہے تھے۔ جب میں نے اپنا مقصد بیان کیا تو آپ نے قلم نیچے رکھ دی اور فرمایا تمہارا گیند تو گراؤنڈ سے باہر نہیں جائے گا لیکن میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جس کا گیند دنیا کے کناروں تک جائے گا۔ اب دیکھ لو کیا آپ کا گیند دنیا کے کناروں تک پہنچا ہے یا نہیں؟ اس وقت امریکہ، ہالینڈ، انگلینڈ، سوئٹزر لینڈ، مڈل ایسٹ، افریقہ، انڈونیشیا اور دوسرے کئی ممالک میں آپ کے ماننے والے موجود ہیں۔ فلپائن کی حکومت ہمیں مبلغ بھیجنے کی اجازت نہیں دیتی تھی لیکن پچھلے دنوں وہاں سے برابر بیعتیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ ابھی تین چار دن ہوئے ہیں فلپائن سے برابر ایک شخص کا خط آیا ہے جس میں اُس نے لکھا ہے کہ اسے میری بیعت کا خط ہی سمجھیں اور مجھے مزید لٹریچر بھجوائیں۔ مجھے جس مقام کے متعلق بھی علم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی اسلام کی