خطبات محمود (جلد 37) — Page 378
1956ء 378 خطبات محمود جلد نمبر 37 لکھا کہ میری بیوی کے ایک ماموں نے جو سید ولی اللہ شاہ صاحب کے داماد اور میری ایک دوسری بیوی ام طاہر کی طرف سے رشتہ دار ہے ) کہا کہ دیکھو جی! حضرت صاحب نے میاں طاہر احمد کو ولایت اس لیے بھیج دیا ہے کہ کہیں وہ ان کی جگہ خلیفہ نہ ہو جائے۔ گویا رویا میں جو خلافت کے خلاف فتنہ اُٹھانے والا حصہ تھا وہ میرے ایک سالے میاں عبدالوہاب کے ذریعہ پورا ہوا اور جو بیٹوں کی تعریف والا حصہ تھا وہ فیض الرحمان فیضی کے ذریعہ پورا ہوا جو راجہ علی محمد صاحب کا سالا اور میری بیوی اُمِ طاہر کی طرف سے میرا رشتہ دار ہے۔ کیا چھ سال قبل اس قدر تفصیلی واقعات کوئی انسان بتا سکتا ہے؟ اس رویا میں صراحتا بتایا گیا تھا کہ خلافت کے خلاف فتنہ ہوگا اور اس میں میرا ایک رشتہ دار جو میری بیویوں کی طرف سے ہوگا میرے بعض بیٹوں کی تعریف کرے گا۔ جب کہ طاہر احمد کے متعلق بیان کیا گیا کہ وہ خلافت کا اہل ہے مگر اسے ولایت اس لیے بھیج دیا گیا ہے کہ وہ کہیں خلیفہ نہ ہو جائے۔ گویا خلافت کے خلاف منصوبہ بھی ہو گیا اور میرے ایک بیٹے کی تعریف بھی ہو گئی۔ دوسری طرف میاں عبدالوہاب نے کہا کہ حضرت صاحب اب بڑھے ہو گئے ہیں ان کو معزول کر دینا چاہیے۔ گویا جو باتیں آج کہی گئی ہیں وہ ساری کی ساری مجھے 1950ء میں بتا دی گئی تھیں۔ میں اُس وقت کوئٹہ میں تھا اور میری وہ رؤیا الفضل میں چھپ چکی ہے۔ اب کون انسان ہے جو اس رویا کو جھوٹی کہہ سکے۔ مولوی محمد علی صاحب کی زندگی میں جب میں یہ کہا کرتا تھا کہ میں نے فلاں رویا دیکھی تھی جو پوری ہو گئی تو وہ کہتے کہ خوابوں کا کیا ہے حضرت صاحب نے تو لکھا ہے کہ بعض دفعہ کنجریوں کو بھی سچی خوابیں آ جایا کرتی ہیں اور یہ بات ٹھیک ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ بعض دفعہ کنجریوں کو بھی سچی خوابیں آ جایا کرتی ہیں اور یہ بات آپ نے حقیقۃ الوحی میں لکھی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تو نہیں لکھا کہ کنجری کے سوا کسی کو کوئی سچی خواب آ ہی نہیں سکتی۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہوتا کہ کنجری کے سوا کسی کو کوئی سچی خواب نہیں آتی تو ان کی بات معقول ہوتی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کسی کتاب میں ایسا نہیں لکھا۔