خطبات محمود (جلد 37) — Page 26
$1956 26 خطبات محمود جلد نمبر 37 بیشک انفرادی طور پر بعض اچھے افراد بھی ہوتے ہیں مثلاً امریکہ کے بعض آدمیوں نے ہماری کتب پر ریویو لکھے ہیں اور وہ بہت زبردست ہیں لیکن یہ سب انفرادی مثالیں ہیں۔حکومت تو مجموعہ افراد کا نام ہوتا ہے اور مجموعہ افراد میں اکثریت عیسائیوں کی ہے۔اور جب اکثریت ائیوں کی ہے تو وہ ہماری مدد کیوں کریں گے؟ وہ جب بھی کریں گے مخالفت ہی کریں گے۔ہاں ! جس دن اُن پر اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے گی اُس دن وہ اسلام کی تائید کریں گے اور تائید بھی چوری چھپے نہیں کریں گے بلکہ گھٹوں کے بل گر اور ہاتھ جوڑ کر درخواستیں کریں گے کہ اُن سے اسلام کی اشاعت کے لیے امداد قبول کر لی جائے اور اس طرح ان کو ثواب میں شریک کر لیا جائے۔اُس دن یہ سوال نہیں ہو گا کہ کوئی حکومت تحقیقات کرے کہ کون کس کو مدد دیتا ہے۔بلکہ اُس دن وہ اس بات پر فخر کریں گے کہ اسلام ہمارا مذہب ہے اور یہ لوگ ہمارے ہم مذہب ہیں۔ہم انہیں مالی امداد دے کر فخر محسوس کرتے ہیں۔اور جب وہ دن آ جائے گا تو سارے مسلمان کیا حنفی، کیا شافعی، کیا شیعہ اور کیا سنی خوش ہوں گے۔بلکہ میں تو سمجھتا ہوں وہ دن آ گیا تو مودودی بھی خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج امریکہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے تیار ہو گیا ہے۔یہ لوگ اُسی وقت تک ہی ناراض ہیں جب تک ظاہری شان و شوکت غیر کے ہاتھ ہے۔جب ظاہری شان و شوکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہو گی تو اُس دن کمزور دل لوگ بھی جو آج تبلیغ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اس بات پر فخر کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دیا ہے۔گو اُس دن کے آنے میں ابھی دیر ہے مگر تم لوگوں کی قربانیوں ہی کی دیر ہے، تم لوگوں کی اصلاح کی ہی دیر ہے۔اگر تم خدا تعالیٰ کے حضور گر جاؤ، اُس کے آگے رو رو کر دعائیں کرو اور اپنی قربانیوں کے معیار کو بڑھا دو تو وہ دن قریب تر آجائے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ امریکہ سے ایک نوجوان نے مجھے لکھا دوسو مبلغ بھیج دیں تو ہمارے ملک میں اسلام کی گونج پیدا ہو جائے گی۔وہ لکھتا ہے کہ امریکہ اتنا وسیع ملک ہے کہ ایک ایک شہر دوسرے شہر سے ہزار ہزار، دو دو ہزار میل کے فاصلہ پس تم قربانیاں کرو تا وہ دن قریب آ جائے جب عیسائیت پاش پاش ہو جائے ہے