خطبات محمود (جلد 37) — Page 369
خطبات محمود جلد نمبر 37 369 1956ء کتب خانے کی حفاظت اور فہرست مرتب کرے۔ سوم گزاره اہل بیت حضرت موصوف و اولاد کے لیے تدابیر انتظام و مقدار گزارہ کی بابت تجویز کرے۔ پس حضور اگر یہ مناسب تصور فرمائیں اس کی بابت مناسب حکم دیا جائے اور کمیٹی اگر یہی مناسب ہے ان کی بابت ورنہ جو حکم مناسب ہوں ان کو مقرر فرمائیں اور سر دست مبلغ دو سو روپے برائے اخراجات دے دیا جائے تا وقتیکہ مناسب انتظام ہو۔ المرقوم 21 مارچ 1914ء محمد علی خان اس چٹھی پر میری طرف سے یہ نوٹ درج ہے کہ:۔ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بہت بہتر ہے۔ آپ ہی ان اصحاب کو جمع کر کے کوئی فیصلہ فرما دیں۔ کتب خانہ کے معاملہ میں مولوی غلام نبی صاحب کو بھی مشورہ میں شامل کر لیا جائے۔ خاکسار مرزا محمود احمد حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے جو وصیت فرمائی تھی وہ یہ ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مَعَ التَّسْلِيمِ خاکسار بقائی حواس لکھتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ۔ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ ہمارے گھر مال نہیں۔ ان کا اللہ حافظ ۔ ان کی پرورش امدادی یا بیتامی یا مساکین سے نہ ہو۔ کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔ لائق لڑکے ادا کریں یا کتب، جائیداد وقف علی الاولاد ہو۔ میرا جانشین متقی ہو، ہر دلعزیز عالم باعمل ہو۔ حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی درگزر کو کام میں لاوے۔ میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔ قرآن کریم کا درس جاری رہے۔ والسلام نورالدین