خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 287

287 $1956 ت مہیا خطبات محمود جلد نمبر 37 بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات ہیں اور انہی ذرائع سے وہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت کرتا رہتا ہے۔اور جب تک لوگ خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم رکھیں گے یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا اور احمدیت ”دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتی جائے گی۔ابھی آپ لوگوں نے الفضل میں پڑھا ہوگا کہ افریقہ کے وہ حبشی جن کے ماتحت عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں عبادت کرنی بھی نہیں آتی وہ تہجد تک باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔چنانچہ اس میں ذکر آتا ہے کہ فلاں دوست نماز تہجد کے بعد کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے تو انہوں نے یہ نظارہ دیکھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔پھر انہوں نے ایسی ایسی سچی خواہیں دیکھی ہیں کہ پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ ایک رات جب کہ میں نماز تہجد کے بعد کچھ دیر کے لیے لیٹ گیا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ دو شخص جنہوں نے لمبے لمبے چوغے پہنے ہوئے ہیں آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مشرق سے آئے ہیں اور تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ جس مہدی کا دیر سے انتظار کیا جا رہا تھا وہ آ چکا ہے۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ہمارے شہید مولوی نذیر احمد صاحب علی (جو اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں اُس کے دین کی خدمت کرتے ہوئے فوت ہوئے ہیں یقیناً شہید ہیں) وہاں آئے۔انہوں نے اس وقت ویسا ہی لباس پہنا ہوا تھا جیسے خواب میں انہیں دکھایا گیا تھا۔چنانچہ ان کی تبلیغ پر اس دوست نے بیعت کر لی۔اسی طرح ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ ان کے پیر نے انہیں بتایا ہوا تھا کہ مہدی ظاہر ہو چکا ہے لیکن یہاں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں ظاہر ہوا ہے اور عنقریب اس کے ظہور کی خبر اس ملک میں بھی پہنچنے والی ہے۔اس کے چند سال بعد مولوی نذیر احمد صاحب علی وہاں گئے جنہوں نے احمدیت کی تبلیغ کی اور وہ ایمان لے آیا۔ایک اور دوست نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسجد کے اردگرد سے گھاس اُکھیٹر رہا ہوں۔پھر کچھ دیر آرام کرنے کے لیے میں ایک درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔اتنے میں میں نے کیا دیکھا کہ ایک اجنبی شخص قرآن کریم اور بائبل ہاتھ میں پکڑے ہوئے میری طرف آیا اور اُس نے مجھ سے باتیں شروع کر دیں۔اس خواب کے