خطبات محمود (جلد 37) — Page 11
خطبات محمود جلد نمبر 37 11 $1956 غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے تجارت میں بہت برکت ہے۔اس لیے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنی اولاد کی اس رنگ میں تربیت کرنی چاہیے کہ وہ کسی چھوٹے سے چھوٹے پیشہ کو بھی حقارت کی نظر سے نہ دیکھے۔اور یاد رکھیں کہ یہ چھوٹے چھوٹے پیشے ہی انسان کو بڑی بڑی تجارتوں کی عقل سکھاتے ہیں۔مثلاً ایک آدمی سائیکلوں اور موٹروں کی مرمت کا کام کرے تو کچھ عرصہ بعد وہ سائیکلیں اور موٹریں رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ ہر ایک پرزہ کی کیا کیا قیمت ہے اور اسے کس طرح سنبھال کر رکھا جا سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کر جاتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت نانا جان کو مستری محمد موسی صاحب سے بہت محبت تھی۔آپ جب بھی لاہور تشریف لاتے اُنہی کے ہاں ٹھہرتے۔ایک دفعہ آپ لاہور تشریف لائے تو میں بھی ساتھ تھا۔آپ مستری صاحب کے مکان پر ہی ٹھہرے۔وہ ہمارے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یکدم باہر نکلے۔چٹھی رساں آیا تھا اور اس نے ایک تار انہیں دی تھی۔وہ پھر اندر آئے اور نانا جان سے کہنے لگے نانا جان ! مجھے پانچ منٹ کی اجازت دیں میں نے ایک ضروری کام کرنا ہے۔چنانچہ انہوں نے سائیکل لیا اور جلدی سے باہر چلے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے تو سانس پھولا ہوا تھا اور جسم پسینہ سے شرابور تھا۔آتے ہی کہنے لگے نانا جان! ایک منٹ کی دیر کی وجہ سے پندرہ بیس ہزار روپیہ ہاتھ سے نکل گیا۔آپ نے دریافت فرمایا مستری صاحب! یہ کیسے؟ تو مستری صاحب نے بتایا کہ فلاں سائیکل کی قیمت یکدم بڑھ گئی تھی۔مجھے تار کے ذریعہ اس کی اطلاع ملی۔تار مجھے دوسرے سائیکل کے تاجروں سے پہلے مل جاتا ہے۔میں نے خیال کیا کہ انہیں اطلاع ملنے سے پہلے پہلے میں ان میں سے کسی کے پاس چلا جاؤں اور اُس سے سارے سائیکلوں کا سودا کر لوں۔چنانچہ میں فوراً سائیکل لے کر ایک تاجر کے پاس گیا اور اُسے پہلی قیمت پر ایک روپیہ زیادہ آفر (Offer) کیا تو وہ سارے سائیکلوں کا سودا کرنے پر تیار ہو گیا۔سائیکل کی قیمت پہلے مثلاً پچانوے روپے تھی تو وہ ایک سو میں روپے ہو گئی تھی۔لیکن وہ چھیانوے روپے پر سودا کرنے پر راضی ہو گیا۔لیکن ابھی وہ بیع نامہ تحریر کر ہی رہا تھا کہ اُسے بھی اطلاع مل گئی اور اس نے سودا کرنے سے