خطبات محمود (جلد 37) — Page 226
226 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں آتا۔درحقیقت اس کے یہی معنے ہیں کہ تم نے اُسے جو کچھ دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ اُسے ادا کر دو۔اس طرح اِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ الله کے یہ معنے ہیں کہ جب وہ وقت قریب آ جائے جس میں جمعہ کے لیے اذان دینی ہو۔تو فَاسْعَوْا إلى ذِكْرِ الله کے تمہارا فرض ہے کہ تم ذکر الہی کے لیے پوری طرح تیاری کرو اور اپنے دماغ میں وہ کیفیت پیدا کرو جو ذکر الہی کے لیے ہونی چاہیے۔مثلاً جمعہ کے دن غسل کرو، کپڑے بدلو اور خوشبو وغیرہ لگاؤ۔بہر حال اس آیت سے ایک تو یہ پتا لگتا ہے کہ ہر کام جو انسان نے کرنا ہو اُس کے لیے اُسے تیاری کرنی چاہیے۔دوسرے یہ بھی پتا لگتا ہے کہ قرآن کریم يُفَسِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا کے مطابق اپنی ایک آیت کی دوسری جگہ تفسیر کر دیتا ہے۔یہاں بھی فرمایا تھا کہ یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ الله اور بظاہر اس سے یہ مفہوم اخذ کیا جا سکتا تھا کہ جمعہ کی اذان کے بعد دوڑ کر مسجد میں پہنچنا چاہیے۔مگر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے نُودِی کو بھی حل کر دیا اور سعی کے معنوں پر روشنی ڈال دی۔یعنی ایک جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد اس سے قطعی فیصلہ ہے۔اسی طرح دوسری جگہ سعی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر اس کے معنی تیاری کرنے کے ہیں۔اگر فَاسْعَوْا کے معنے دوڑنے کے کیے جائیں تو حدیث اس کی مخالف ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دوڑ کر مسجد میں نہ آؤ۔پس ان معنوں کو تسلیم کرنے سے قرآن کریم اور حدیث میں تضاد نظر آتا ہے۔لیکن جب ہم نے قرآن کریم کو ہی بعض دوسرے مقامات سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سعی کے معنی دوڑنے کے ہی نہیں بلکہ کوشش اور تیاری کرنے کے بھی ہیں۔پس تضاد کا شبہ دور ہو گیا کیونکہ ہمیں معلوم ہو گیا کہ اس لفظ کے ایسے معنے بھی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معنوں کی تصدیق کرتے ہیں۔پھر ان معنوں سے یہ بھی نکل آیا کہ قرآن کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصہ کی تفسیر کرتا ہے اور یہ بھی پتا لگا کہ ہر کام کے لیے ایک تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً اگر ہم چندے کا وعدہ کریں لیکن ہم اپنا خرچ نہ گھٹائیں تو ہم چندہ کس طرح دے سکیں گے۔اور اگر ہم اپنا خرچ گھٹائیں گے تو لازماً اس کام میں