خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 217

$1956 217 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں اس پر زیادہ انعام کر دوں۔اسی طرح آخری عشرہ آتا ہے تو کہتا ہے میرا بندہ ہیں دن بھوکا رہا ہے۔آج میں چاہتا ہوں کہ اس پر زیادہ احسان کروں۔غرض یہ دن ایسے ہیں جیسے بچپن میں بعض دیہاتی کھلائیاں ہمیں کھلایا کرتی تھیں تو وہ سناتی تھیں کہ ایک دیو تھا۔اُس کے پاس ایک غریب آدمی پہنچا جس نے اُسے دبانا شروع کر دیا۔اس پر وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا مانگ جو مانگنا ہے۔آج میں ٹھٹھہ پیا ہاں۔اس کے معنے تو مجھے معلوم نہیں مگر مفہوم یہ ہے کہ آج میں دینے پر آیا ہوا ہوں اس لیے مانگ جو کچھ مانگنا ا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی بعض دفعہ اس خیالی دیو کی طرح ٹھٹھہ پیا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں دوں اور تم پر اپنے انعامات نازل کروں۔پس آج ایسی برکت کا دن ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ وہ اُس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔پھر آج دعا کا بھی وقت مقرر ہے۔گو بیماری کی وجہ سے میں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا۔مگر پھر بھی میں کوشش کروں گا کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاؤں۔کسی زمانہ میں تو میری یہ حالت تھی کہ دعا کرتے کرتے مغرب کی اذان ہو جاتی اور روزہ بھی وہیں گھلتا۔مگر اب تھوڑی دیر بیٹھنے سے ہی کچھ غنودگی سی آنے لگتی ہے اور خیالات کا تسلسل پراگندہ ہو جاتا ہے۔بہر حال ہم اس مبارک موقع کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور دوستوں سے مل کر دعائیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل نازل فرمائے اور ہماری دعائیں قبول کر کے احمدیت کو ترقی عطا فرمائے۔آخر یہ دین ہمارا نہیں بلکہ ہمارے خدا کا ہے۔قرآن خدا نے نازل کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے کھڑا نہیں کیا اور نہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے۔پس اُس کو اپنے دین اور اپنے رسول اور اپنے کلام کی ہم سے زیادہ غیرت ہونی چاہیے۔اگر ہمارے دلوں میں اسلام کی بے کسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظلومیت کی وجہ سے درد پیدا ہوتا ہے تو جس نے انہیں بھیجا ہے اُس کو کیوں درد نہیں ہو گا۔مگر وہ ہمارا بھی امتحان لینا چاہتا ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ ہم کو بھی اس کام میں شریک کرے۔مائیں بعض دفعہ اپنے بچوں کا دل بڑھانے کے لیے جب میز یا چار پائی اُٹھانے لگتی ہیں تو بچے سے بھی کہتی ہیں کہ تو بھی ہاتھ بٹا اور وہ اس پر اپنا ہاتھ