خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 216

$1956 216 خطبات محمود جلد نمبر 37 یہ ساری باتیں جمع ہیں۔جمعہ کا دن بھی ہے جس میں وہ گھڑی آتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگے اسے مل جاتا ہے اور رمضان بھی ہے اور پھر آخری عشرہ بھی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا دوسرے دنوں میں وہ نہیں سنتا؟ ہم کہتے ہیں وہ سنتا ہے مگر وہ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ 4 بھی ہے۔جب اس نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میں جمعہ کے دن اور پھر رمضان کے آخری عشرہ میں دعائیں زیادہ سنوں گا تو کون اس میں روک بن سکتا ہے۔ہمارا خدا اپنے بندوں کو دیتا ہے اور بہانے بنا بنا کر دیتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک بڑا گنہگار ہو گا۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بلائے گا اور کہے گا تیرے کچھ گناہ میں سناتا ہوں۔تو نے فلاں گناہ کیا، فلاں گناہ کیا، فلاں گناہ کیا۔میں ہر گناہ کے بدلہ میں تجھے دس دس نیکیاں دیتا ہوں مگر وہ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ ہوں گے بڑے بڑے گناہ اللہ تعالیٰ نہیں گنائے گا۔تب وہ دلیر ہو کر کہے گا کہ الہی ! میرے بڑے بڑے گناہ تو آپ نے گنے ہی نہیں۔میں نے فلاں گناہ بھی کیا ہے، فلاں بھی کیا ہے، فلاں بھی کیا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا اور فرمائے گا دیکھو! میرا بندہ میرے عفو کو دیکھ کر کتنا دلیر ہو گیا ہے کہ وہ اپنے گناہ آپ گنانے لگ گیا ہے۔پھر فرمائے گا جاؤ میں نے ان گناہوں کے بدلہ میں بھی تجھے یہ یہ نیکیاں دیں۔5 غرض دینے والا جب دینے پر آئے تو بندہ کیوں نہ لے۔یہ تو اس کے دینے کے راہی ہیں۔گو ان میں حکمتیں بھی ہیں۔مثلاً ! جمعہ کے دن سارے شہر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور جب مومن خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے جمع ہوں تو خدا تعالیٰ کو یہ بات بڑی پسند آتی ہے کہ اس کے بندے اپنے کام کاج چھوڑ کر اس کے ذکر کے لیے جمع ہوئے ہیں۔یوں تو ی روزانہ ہر نماز میں محلہ کے مسلمان جمع ہوتے ہیں مگر جمعہ کے دن وہ کہتا ہے کہ سارے شہر کے مسلمان ایک جگہ جمعہ ہوں۔اور چونکہ سارے مومن ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ جس طرح یہ لوگ آج نہا دھو کر آئے ہیں اسی طرح میں بھی آج انہیں زیادہ انعام دے دیتا ہوں۔پھر رمضان شروع ہوتا ہے تو وہ رات کو خاص طور پر دعائیں سنتا ہے۔کہتا ہے سارا دن میرا بندہ بھوکا رہا ہے۔چلو رات کو