خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 194

1956ء 194 خطبات محمود جلد نمبر 37 ربوہ نہیں لائے ۔ اگر وہ انہیں یہاں لے آتے تو ممکن ہے ان کا علاج ہو سکتا یا ممکن ہے ان کے آخری وقت میں اگر ان کے کچھ پرانے دوست اور صحابہ وغیرہ ان سے ملتے تو یہ امران کے دل کے اطمینان اور تسلی کا موجب ہوتا۔ مگر افسوس ہے کہ وہ انہیں ربوہ نہ لائے ۔ تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے پھر توجہ دلائی تھی کہ ابھی تک وہ انہیں کیوں نہیں لائے۔ مگر معلوم ہوتا ہے میرا وہ خط انہیں نہیں پہنچا اور وہ وفات پا گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ۔ الفضل کے ابتدائی اسٹنٹ ایڈیٹر در حقیقت وہی تھے۔ ایڈیٹر میں خود ہوا کرتا تھا اور اسٹنٹ ایڈیٹر وہ تھے۔ ان کی تعلیم زیادہ نہیں تھی صرف مڈل پاس تھے مگر بہت ذہین اور ہوشیار تھے۔ میری جس قدر پہلی تقریریں ہیں وہ ساری کی ساری انہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔ وہ بڑے اچھے زودنویس تھے اور ان کے لکھے ہوئے لیکچروں اور خطبات میں مجھے بہت کم اصلاح کرنی پڑتی تھی۔ پھر وہ اخبار کے ایڈیٹر ہوئے اور ایسے زبردست ایڈیٹر ثابت ہوئے کہ در حقیقت پیغامیوں سے زیادہ تر تر شکر انہوں نے ہی لی ہے۔ ”پیغام صلح کے وہ اکثر جوابات لکھا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ میرے ابتدائی خطبات وغیرہ بھی لکھتے رہے جو انہی کی وجہ سے محفوظ ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا جماعت پر یہ ایک بہت بڑا احسان ہے اور جماعت ان کے لیے جتنی بھی دعائیں کرے اس کے وہ مستحق ہیں۔ آخر میں حضور نے فرمایا: میں نے پچھلے خطبہ میں کراچی کی جماعت کے متعلق بعض باتیں بیان کی تھیں اس کے بعد اُن کی طرف سے تار آ گئی کہ کوٹھی خالی کر دی گئی ہے۔ اگر وہ پہلے ہی لکھ دیتے کہ کوٹھی کے اتنے کمرے لیے گئے ہیں اور اتنے خالی ہیں تو مجھے تردد نہ ہوتا۔ بہر حال اب وہ بات تو ختم ہو گئی مگر ان کی تار ایسے وقت میں آئی ہے کہ رمضان کی وجہ سے میں کراچی نہیں جا سکتا کیونکہ دو دن رستہ میں لگ جاتے ہیں۔ اب میں مری جانے کی کوشش کر رہا ہوں جہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ میرا قیام ہوگا۔ 1 : الشورى : 41 )الفضل 15 مئی 1956ء 2 : ارڈ پوپو : ( ہرڑ پوپو ) فال دیکھنے والا ، رمال، نجومی نیز جعلی پیر، جعلی سادھو ۔