خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 184

خطبات محمود جلد نمبر 37 جھوٹا نہ بنوں ۔ 184 1956ء پھر بعض دفعہ خواب کی یہ بھی غرض ہوتی ہے کہ عقلی طور پر علاج سوچے جائیں اور خدا تعالیٰ نے حصولِ مقصد کے لیے جو ذرائع پیدا کیے ہیں اُن سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ اسی طرح دعاؤں کے نتیجہ میں بعض دفعہ اتنا وقت مل جاتا ہے کہ انسان کئی قسم کے کام کر سکتا ہے۔ اچانک موت آ جائے تو سب کام ادھورے رہ جاتے ہیں لیکن اگر وقت مل جائے تو انسان دعا ئیں بھی کر سکتا ہے اور علاج بھی کر سکتا ہے اور اپنے کئی کاموں کو بھی مکمل کر لیتا ہے۔ بہر حال جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خواب دکھایا جائے تو انسان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے دعاؤں سے کام لے اور یہ نہ سمجھ لے کہ اب یہ کام اللہ تعالیٰ ہی کرے گا مجھے اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ ہی بندے کا سارا کام اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ مگر ایسا شاذ و نادر کے طور پر ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بیمار ہوئے اور آپ کو خطرناک کھانسی شروع ہو گئی۔ رات اور دن آپ کھانستے رہتے تھے اور یہ کھانسی اتنی بڑھ گئی کہ حضرت خلیفہ اول کو شبہ ہوا کہ کہیں آپ کو سل نہ ہو گئی ہو۔ چونکہ آپ کو دوائیں پلانے کا کام میرے سپرد تھا اس لیے بچپن کے لحاظ سے میں بھی اپنے آپ کو مشورہ دینے کا اہل سمجھنے لگ گیا۔ ایک دفعہ باہر سے کوئی دوست آئے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے کوئی پھل لائے ۔ غالباً کیلے تھے جو انہوں نے پیش کیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھتے ہی فرمایا کہ لاؤ اور مجھے کیلا دو۔ چونکہ کیلے میں بھی تھوڑی سی ترشی ہوتی ہے اور میں سارا دن دوائیں پلا پلا کر اپنے آپ کو بھی مشورہ دینے کا کی اہل سمجھتا تھا میں نے کہا کہ کیلا آپ کے لیے مناسب نہیں۔ آپ نے فرمایا جانے دو، لاؤ کیلا۔ خدا نے مجھے کہا ہے کہ اچھے ہو جاؤ گے۔ اس لیے اب کسی علاج کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ واقع میں اس کے بعد آپ کو صحت ہو گئی۔ اب دیکھو! وہی چیز جو کھانسی پیدا کرنے والی تھی اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت کھانسی نہ پیدا کر سکی اور آپ اچھے ہو گئے ۔ بلکہ میں نے جب زیادہ اصرار کیا تو آپ نے فرمایا جاؤ جاؤ پرے جا کر بیٹھو۔ ابھی الہام ہوا ہے