خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 6

$1956 6 خطبات محمود جلد نمبر 37 اللہ تعالیٰ نے اس کی تعداد بہت بڑھا دی ہے اور اب موجودہ جماعت کو خیال کرنا چاہیے کہ اُس وقت کے پچاس ساٹھ احمدیوں نے اپنی زندگیوں کو سدھارا اور دوسروں تک اپنے خیالات کو سنجیدگی سے پہنچایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ صرف جمعہ کی نماز میں آنے والے احمدیوں کی تعداد پچاس سے بڑھ کر پندرہ سو تک پہنچ گئی۔اگر تم بھی ان لوگوں کی طرح اپنی زندگیوں کو سدھارتے اور اپنے خیالات سنجیدگی سے دوسروں تک پہنچاتے تو تم پندرہ سو سے پینتالیس ہزار بن جاتے۔دوست لا ہور کے شہر کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے ابتدائی زمانہ سے ہی اس کی تبلیغ کا مرکز بنایا ہے۔میں ابھی بچہ ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور تشریف لایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ یہاں تشریف لائے، میں بھی ساتھ تھا۔مسجد وزیر خان کے قریب ایک کی کے ہاں آپ کی دعوت تھی۔میری عمر اُس وقت بہت چھوٹی تھی۔صرف سیر کی وجہ سے میں ساتھ آ گیا تھا۔دعوت سے فارغ ہو کر جب ہم باہر نکلے تو دہلی دروازہ سے نکلتے وقت اس کی زمانہ میں دائیں طرف ایک پیپل کا درخت تھا۔اُس درخت کے پاس ہجوم بہت زیادہ تھا۔ہمیں دیکھ کر لوگوں نے گالیاں دینی شروع کر دیں اور بہت شور بلند کیا۔جب ہم پیپل کے پاس سے گزرے تو اُس وقت جو لوگ جمع تھے اُن میں سے کسی نے کہا کہ تم یہ کہو کہ ہائے ہائے“۔گویا مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں۔میں بہت حیران تھا کہ لوگ اتنا شور کیوں کرتے ہیں اور ہمیں کیوں گالیاں دیتے ہیں۔مجھے یہ نظارہ خوب یاد ہے کہ اُس وقت ایک شخص جو مولوی طرز کا معلوم ہوتا تھا اور ٹھنڈا تھا وہ اپنا دوسرا ہاتھ ٹنڈ پر مار کر ہائے ہائے کی تی آواز بلند کر رہا تھا۔بچپن کی وجہ سے مجھے یہ عجیب تماشا معلوم ہوتا تھا اور میں اسے شوق سے دیکھتا تھا لیکن بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ یہ ہجوم حضرت صاحب کی مخالفت کی وجہ سے جمع ہو گیا تھا اور اپنی اس مخالفت کی وجہ سے آپ کو گالیاں دے رہا تھا۔گویا کسی وقت وہ زمانہ تھا کہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا کرتے تو آپ کو گالیاں دینے کے لیے لوگ رستوں پر جمع ہو جاتے تھے۔لیکن اُس وقت کے احمدیوں کا ایمان تازہ تھا، اُن میں اخلاص اور جوش پایا جاتا تھا، وہ سچے دل سے باہر نکلے اور انہوں نے تبلیغ کے رستہ میں سچا جذ بہ دکھایا اور خدا تعالیٰ نے بھی ان کی کوششوں میں برکت دی اور ان کی تعداد کو ہزاروں تک پہنچا دیا۔