خطبات محمود (جلد 37) — Page 166
$1956 166 خطبات محمود جلد نمبر 37 لکھا کہ آئیں ہم مل کر اسلام کی خدمت کریں۔میں نے اُسے یہی لکھا ہے کہ ہم تو اس کے لیے تیار ہیں مگر تم خود غور کر لو کہیں بعد میں لوگوں کی مخالفت پر پیچھے نہ ہٹ جانا۔ہمارے ملک میں تو لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ جب مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ انہیں اپنے جلسے منعقد کرنے کے لیے بھی روپیہ نہیں ملتا تھا اور ہمیشہ میں انہیں مدد دیا کرتا تھا۔لیکن اب یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہمارا مسلم لیگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔مجھے لاہور میں ایک دفعہ لکھنؤ کے ایک وکیل ملے۔انہوں نے کہا کہ میں قریباً 9 سال مولانا محمد علی صاحب کا سیکرٹری رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ جب کبھی مسلم لیگ کا جلسہ ہوتا تھا آپ کو اُس میں بلایا جاتا تھا اور آپ سے مشورہ لیا جاتا تھا۔میں نے کہا کہ دوسرے مسلمان تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔وہ کہنے لگے کہ کوئی شخص جو حالات سے واقف ہو ایسا نہیں کہہ سکتا۔میں خود مسلم لیگ کے جلسوں میں شریک ہوتا رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ آپ کو اُن جلسوں میں بلایا جاتا تھا اور جب روپیہ کی وجہ سے جلسہ نہ ہوسکتا تھا سے مالی امداد لی جاتی تھی۔ہم لوگ جو ابھی تک زندہ موجود ہیں اس بات کے گواہ ہیں۔میں نے کہا کمرہ میں بیٹھ کر آپ کے گواہی دینے سے کیا بنتا ہے۔اگر آپ میں جرات ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ حق بات کہہ رہے ہیں تو اخباروں میں بھی اپنا بیان شائع کروائیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ جن ممالک میں اسلامی اثر پایا جاتا ہے اُن میں ہمیں اخلاق ، تواضع اور انکسار نظر آتا ہے اور انہیں خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہوتی ہے۔اسی طرح سکھوں میں میں نے دیکھا ہے اُن میں بھی خدا تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہے۔میں نے عام طور پر دیکھا ہے کہ سکھ ملنے آتے تھے تو وہ ہاتھ جوڑ کر رونے لگ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ دعا کریں ہمیں خدا مل جائے۔اسی طرح ہندوؤں میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی تڑپ پائی جاتی ہے۔بدقسمتی ہماری ہے کہ ہم نے اُن میں تبلیغ بند کر دی ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمت کو تالے لگا دیئے ہیں۔اگر ہم انہیں تبلیغ کریں تو وہ ضرور اثر قبول کر لیں۔مجھے ایک دعوت کے موقع پر کراچی کے انڈین ہائی کمشنر ملے۔انہوں۔