خطبات محمود (جلد 37) — Page 4
خطبات محمود جلد نمبر 37 4 $1956 دیکھو! مدینہ کے لوگ مکہ آتے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ انہیں ملنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔اُن میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن پر آپ کی باتوں کا اثر ہوا اور انہوں نے واپس جا کر اپنے شہر والوں سے ان باتوں کا ذکر کیا۔چنانچہ اگلے سال اور زیادہ تعداد میں مدینہ کے لوگ مکہ آئے۔وہ مکہ کی گلیوں میں پھرتے رہے۔مکہ والوں نے انہیں دھوکا میں رکھنا چاہا اور حقیقت پر کئی پردے ڈالے لیکن آخر انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر ہی لیا۔آپ نے اُن سے باتیں کیں اور ان باتوں کے نتیجہ میں مدینہ والوں نے حق کو قبول کر لیا لیکن پہلی دفعہ یہی فیصلہ ہوا تھا کہ شہر سے باہر نکل کر کسی علیحد جگہ میں ملاقات کی جائے کیونکہ وہ لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں مکہ والے اُن کی مخالفت نہ کریں لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے باتیں کیں اور اُن پر حق کھل گیا تو انہوں نے بلند آواز سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اتنی بلند آواز سے نعرہ تکبیر کہا ہے کہ ممکن ہے مکہ والوں کو پتا لگ جائے کہ تم کس نیت سے یہاں آئے ہو۔انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! جب تک ہمیں حقیقت کا صحیح طور پر پتا نہیں تھا اُس وقت تک ہم بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب جبکہ حقیقت ہم پر واضح ہو گئی ہے ہم اسے چھپا نہیں سکتے۔پس جب انسان کے اندر صداقت کے معلوم کرنے کی لگن پیدا ہو جاتی ہے تو وہ آپ ہی آپ صداقت معلوم کرتا رہتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ نواب محمد دین صاحب مرحوم نے جب بیعت کی تو اُس وقت وہ ریاست مالیر کوٹلہ میں ملازم تھے اور کونسل آف سٹیٹ کے ممبر بھی تھے۔بیعت کے وقت آپ نے کہا میں یہاں سے ریٹائر ہو جاؤں تو مجھے ملازمت کے لیے کسی اور ریاست میں جانا پڑے گا۔اس لیے آپ مجھے ابھی اپنی بیعت مخفی رکھنے کی اجازت دیں۔چنانچہ میں نے انہیں بیعت رکھنے کی اجازت دے دی۔بیعت کے بعد وہ شملہ چلے گئے۔مجھے بھی اُن دنوں چند دنوں کے لیے تبدیلی آب و ہوا کی خاطر شملہ جانے کا موقع ملا۔نواب صاحب نے مجھ سے کہا آپ روز بروز کہاں شملہ آتے ہیں، میں اور تو کوئی خدمت نہیں کر سکتا ہاں ! اتنا کر سکتا ہوں کہ بڑے بڑے لوگوں کو چائے پر بلا کر آپ کا اُن سے تعارف کرا دوں۔چنانچہ انہوں نے