خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 133

خطبات محمود جلد نمبر 37 133 $1956 کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں انہیں دین کی خدمت کے لیے نی آگے لا سکتی ہیں اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں انہیں اس طرف توجہ دلا سکتی ہیں۔وہ ازلی محروم ہیں۔ان کو برکت کون دے؟ برکت اُسی کو ملے گی جس کی قسمت میں وہ پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ مرزا غالب کو آم بہت پسند تھے۔ایک دن وہ بادشاہ کو ملنے گئے تو وہ انہیں اپنے باغ میں لے گیا۔پرانے زمانہ میں درباریوں کو یہ ادب سکھایا جاتا تھا کہ وہ ہمیشہ بادشاہ کی طرف اپنا منہ رکھا کریں لیکن مرزا غالب بار بار آموں کی طرف دیکھتے۔بادشاہ نے کہا مرزا غالب! یہ کیا بات ہے تم بار بار اُدھر کیوں دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا حضور! میں نے سنا ہوا ہے کہ جب خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اس دنیا میں بھیجتا ہے تو وہ رزق پر اُس کا نام لکھ دیتا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ شاید کسی آم پر میرا یا میرے باپ دادا کا بھی نام لکھا ہوا ہو۔بادشاہ ہنس پڑا اور اُس نے اپنے ایک نوکر کو حکم دیا کہ وہ مرزا غالب کے گھر آم ا دے آئے۔پس جس کی قسمت میں خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت لکھی ہے اُس کے راستہ میں خواہ دس میل تک زہریلے سانپ ہوں وہ انہیں کچلتا ہوا آگے آجائے گا۔اور خواہ بنگی تلوار میں کھڑی ہوں اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر وہ آگے بڑھا تو اُس کی گردن کٹ جائے گی تب بھی وہ دین کی خدمت کے لیے آ جائے گا۔بلکہ دین کی خدمت تو بڑی چیز ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ باطل کے ساتھ محبت رکھنے والے بھی کسی مصیبت کی پروا نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے ایک میراثی کا لڑکا رسل کی مرض میں مبتلا ہو گیا۔اُس کی ماں اُسے علاج کے لیے قادیان لائی۔وہ لڑکا عیسائی ہو چکا تھا اور اُس کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ اسلام قبول کر لے۔اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ آپ نہ صرف اس کا علاج کریں بلکہ اسے تبلیغ بھی کریں تا کہ یہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے بہت سمجھایا وہ نہ سمجھا۔آخر ایک رات بیماری کی حالت میں ہی وہ بٹالہ کی طرف بھاگ نکلا